285

دن کا وہ ایک لمحہ جب مرد سے پوچھا جائے تو وہ اپنے دل کا ہر راز اپنی بیگم کو بتادیتا ہے،

ازدواجی قربت کے لمحات میں انسان خود کو جذبات کی رو میں یوں بہتا محسوس کرتا ہے کہ حواس پر قابو رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان خاص لمحات میں جہاں اور بہت سی غیر معمولی کیفیات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں ذاتی زندگی کے پوشیدہ پہلوﺅں سے پردہ اٹھانے کی انجانی سی طلب بھی محسوس ہونے لگتی ہے۔ سائنسدانوں نے ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ یہ طلب بے وجہ نہیں ہے۔ دی میٹرو کی رپورٹ کے مطابق سائنسی جریدے پرسنالٹی اینڈ سوشل سائیکالوجی بلیٹن میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ قربت کے لمحات میں، اور خصوصاً اس کے فوری بعد، اپنے دل کے راز کہنے کی طلب دراصل شریک سفر کے ساتھ اپنے تعلق کو مزید پختہ کرنے کی تحت الشعوری کوشش ہوتی ہے۔ سائنسدانوں نے اس نظریے کی تصدیق کے لئے دو تحقیقات کیں جن کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا ازدواجی فرائض کی ادائیگی کے بعد شریک سفر کے ساتھ دل کے راز بانٹنے کی تمنا بڑھ جاتی ہے۔

تحقیق کے شرکاءکے ایک گروپ کو عمومی نوعیت کی ملاقات کے بعد زندگی کے کسی خاص واقعے کے متعلق بات چیت کرنے کو کہا گیا جبکہ دوسرے گروپ نے ازدواجی فرائض کی ادائیگی کے بعدزندگی کے کسی خاص واقعے کے متعلق بات چیت کی۔ معلوم ہوا کہ جن افراد نے ازدواجی فعل کی ادائیگی کے بعد آپس میں بات چیت کی انہوں نے اپنی زندگی کے پوشیدہ واقعات کہیں زیادہ تفصیلات کے ساتھ شریک سفر کو بتائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کا جنسی نظام متحرک ہونے کے بعد اس میں یہ خواہش بڑھ جاتی ہے کہ وہ شریک سفر کو اپنے مزید قریب کر سکے۔ اپنی زندگی کے پوشیدہ پہلوﺅں کو اس کے سامنے کھول کر بیان کرنا بھی اسی خواہش کی تکمیل کا ایک ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ازدواجی قربت کو انسان کے کمزور ترین لمحات کہا جاتا ہے، یعنی ان لمحات میں انسان بے خودی کے عالم میں اپنے اہم ترین راز بھی اگل سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں