121

رشتے انمول ہوتے ہیں ان کی قدر کریں

زمانہ تیزی سے تبدیلی کی جانب رواں دواں ہے۔ آج کے دور کی نسبت ماضی میں وسائل محدود لیکن زندگی پرسکون تھی۔ رشتوں میں محبتیں کوٹ کوٹ کر بھری تھیں۔ دلوں میں قربتیں تھیں، چنانچہ سب مل جل کر رہتے تھے جبکہ آج کے دور میں محبت ناپید سی ہو گئی ہے۔ گو کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آجکل کے لڑکے لڑکیاں زیادہ باشعور ہیں، پھر بھی محبت جو ہماری پہچان تھی اس سے محروم ہوتے جا رہے ہیں اور شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ اب دلوں میں گنجائش اور تحمل کا مادہ باقی نہیں رہا۔

آپس میں نااتفاقیاں، رنجشیں، ناراضگیاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ کہیں بھائی بہن میں لڑائی جھگڑے ہین تو کہیں ساس، بہو میں اقتدار کی جنگ جاری ہے۔ نندیں، بھابیوں سے نالاں ہیں اور بھابیاں، نندوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مشترکہ خاندانی نظام کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ہر شخص اپنی الگ چار دیواری بنانا چاہتا ہے۔ آج صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ بہو گھر میں آتے ہی علیحدہ گھر کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتی ہے۔بہو کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اتنا عرصہ وہ ماں باپ کے گھر میں رہ کر آج ایک نئے گھر میں آئی ہے جہاں ہر قدم پر ایک نیا امتحان اس کا منتظر ہے، ہر لمحہ اسے یہ ثابت کرنا ہے کہ اسکے والدین نے اسکی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔وہ ایک اچھی بیوی، اچھی بھابھی، اوراچھی بہو بن کر دکھائے چونکہ ذمہ داریوں سے فرار آسان ہے لیکن مزہ تو تب ہے جب پوری خوشدلی سے انہیں نبھائیں۔سسرال ہر لڑکی کیلئے انجانا ہوتا ہے لیکن ان انجانے رشتوں کو اپنائیں کیونکہ یہی لڑکی کا حقیقی گھر ہوتا ہے جسے چاہے تو وہ اپنے خلوص سے خوشیوں کا گہوارہ بنا سکتی ہے اور چاہے تو اسکا شیرازہ بکھیر سکتی ہے

برائیوں کو اپنے عمل سے اچھائیوں میں بدلنا ہی فن ہے۔ مناسب وقت پر الگ ہونے میں کوئی برائی نہیں لیکن جبتک سب کیساتھ رہیں، مل جل کر رہیں، سب کو ساتھ لیکر چلیں۔یہ کام اتنا مشکل بھی نہیں صرف اپنے دل میں گنجائش پیدا کریں پھر دیکھیں فاصلے قربتوں میں خودبخود تبدیل ہو جائیں گے اور یہ انجانے رشتے اپنوں سے بڑھ کر محسوس ہونگے۔عموما! ساس نندیں بہت چاہ کیساتھ سینکڑوں میں سے ایک چاند سا مکھڑا اپنے لاڈلے کیلئے پسند کرتی ہیں مگر جیسے ہی یہ چاند انکے آنگن میں اترتا ہے اس میں گرہن لگ جاتا ہے۔

بہو یا بھابھی پر تنقید برائے تنقید کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ ایک لڑکی اپنا سب کچھ چھوڑ کر آپکے گھر آئی ہے اسکے ماں باپ، بہن بھائی، سہیلیاں سب اس سے دور ہیں لہٰذا اس لڑکی کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ سب اسکے اپنے ہیں، یہ گھر اسکا ہے۔ اسکو بگاڑنا یا بنانا اسکے ہاتھ میں ہے۔اہلخانہ اسے کھلے دل سے اپنائیں، اپنی بہو یا بھابھی کی چھوٹی چھوٹی کاوشوں کو سراہیں، اگر بہو کی کسی بات سے تکلیف پہنچے تو چار لوگوں کے درمیان اسکی برائی کرنے سے بہتر ہے کہ خود اس سے وہ بات کہہ دیں تاکہ گلے شکوے طول نہ پکڑی

بہو گھر کی عزت ہوتی ہے، کوشش کریں گھر کی بات گھر ہی میں رہے اور گھر کی عزت پر حرف نہ آئے۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنا کر بہو کو بھی بیٹی بنایا جا سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر کے بڑے بچوں کی نادانیوں کو اپنی فہم و فراست اور پیار و محبت سے سدھاریں تو گھر کا شیرازہ بکھرنے نہ پائے۔ مختصر یہ کہ رشتے بڑے انمول ہوتے ہیں، انکی قدر کرنا ہر ایک پر لازم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں