41

عراق میں داعش نے حضرت یونس علیہ السلام کا مزار شہید کردیا تو نیچے سے کیا نکل آیا دیکھ کر پوری دنیا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں

جب شدت پسند تنظیم داعش نے 2014ءمیں عراق کے شہر موصل پر قبضہ کیا تو وہاں موجود حضرت یونس ؑ کے مزار کو بھی بم دھماکوں سے نقصان پہنچایا۔۔

اب عراقی فوج کی طرف سے موصل کو داعش کے قبضے سے چھڑانے کے بعد جب ماہرین آثار قدیمہ مزار میں گئے تو عمارت کے نیچے سے ایسی چیز دریافت ہو گئی کہ دیکھ کر پوری دنیا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق مزار کے نیچے 2600سال قدیم عمارات موجود تھیں جن کے متعلق ماہرین آثار قدیمہ کو اس سے قبل کوئی علم نہیں تھا۔ان عمارات کے متعلق ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ”یہ قدیم بادشاہ ’ایسرحدون‘کا محل ہے۔“

رپورٹ کے مطابق مزار کے نیچے محل کے علاوہ کئی سرنگیں بھی موجود ہیں جن سے سنگ مرمر سے بنی کئی اشیاءبرآمد ہوئی ہیں جن میں کئی تختیاں بھی شامل ہیں۔ ان تختیوں پر مختلف عبارات تحریر ہیں۔ ان میں سے ایک پر ایسرحدون کو ”دنیا کا بادشاہ“ کہا گیا ہے جبکہ باقی تختیوں پرلکھی تحاریر سے اس کے خاندان کی تاریخ کا پتا چلتا ہے۔۔

یہ تمام اشیاء672قبل مسیح کی ہیں۔ مزار کے نیچے دریافت ہونے والی عمارات کی دیواروں پر نقش و نگار بنے ہوئے ہیں جس سے اس قدیم تہذیب کے طرزتعمیر کا اندازہ ہوتا ہے۔واضح رہے کہ یہ مزار ابتدائی طور پر 1852ءمیں دریافت ہوا تھا جب موصل کے گورنر نے کھدائی کروائی تھی۔

اس کے بعد 1950ءمیں عراقی محکمہ آثار قدیمہ نے اس پر تحقیق شروع کی تاہم وہ آج تک ان زیرزمین عمارات اور سرنگوں تک نہیں پہنچ سکا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں