267

معصوم بچی کی روح جو سب کی جان بچانے پہنچ جاتی تھی – ایک سچی کہانی

میں محکمہ ہائی وے میں ملازم ہوں ۔سڑکوں کا معائنہ کرتا رہتا ہوں اور انکی رپورٹ بنا کر اوپر بھیج دیتا ہوں ۔ایک بارمجھے گوجرانوالہ میں پوسٹ کردیا گیا۔ حسب معمول میں اپنی ڈیوٹی دینے لگا ۔میں صرف شہر تک ہی محدود نہیں رہا کرتا تھا،شہر سے باہر نکل کر لنک سڑکوں کا بھی معائنہ کرتا تھا تاکہ پوری سچائی کے ساتھ روٹی روزی کما سکوں ۔اس روز میں صبح سویرے چن دا قلعہ کی جانب بائی پاس پر اپنی جیپ میں جارہا تھا کہ واپڈا ٹاؤن کے پاس ایک پلی کراس کرتے ہوئے اچانک میری جیپ اچھلی۔اور پھر اچانک وہ ہوا جس کا میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا ۔میری جیپ ہچکولے لیتی ہوئی سڑک سے قدرے نیچے اتری اور اسی لمحہ تین پہیوں والی سائیکل پر ایک چھوٹی سی بچی میرے سامنے آگئی ۔ یہ اتنی اچانک ہوا کہ میں باریک لگاتے ہوئے بھی اس سے ٹکرا گیا اور بچی سائیکل سمیت پلی کی دوسری جانب کھائی میں

جاگری۔میرے ہوش اڑگئے۔میں چاہتا تو فرار ہوسکتا تھا مگر اس جیسی میری بھی ایک بچی تھی ،میں یہ جرم نہیں کرسکتا تھا ۔اگر میں اس روز فرار ہوجاتا تو ساری زندگی یہ غم اور احساس کچوکے لگاتا کہ میں ایک بچی کو جیپ سے ٹکر مار کر فرار ہوگیا تھا۔خیر جلدی سے نیچے اترا اور بھاگ کر کھائی کی جانب گیا تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔پاس ہی جھاڑیاں تھیں ،ان میں تلاش کیا مگر وہ بچی ملی نہ اسکی سائیکل ۔میرے تو پسینے چھوٹ گئے کہ یا الٰہی یہ بچی کہاں گئی۔پانچ دس منٹ تک میں یونہی تلاش کرنے کے بعد جیپ کے پاس آیا تو دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص وہاں کھڑا ہے۔’’ صاب پریشان ہوگئے،نہیں ملی ناں بچی‘‘ میں حیران ہوکر اسکو دیکھنے لگا،رومال سے ماتھے کا پسینہ صاف کیا ۔’’ آپ نے دیکھا کیا۔کہاں گئی وہ بچی ،بڑا ڈھونڈا ہے اسکو ‘‘ میں نے قدرے ہانپتے ہوئے کہا

’’ صاب وہ سایہ تھا ۔آسیب تھا ۔یہ سمجھ لیں یا پھر یہ کہ آپ کا وہم تھا ‘‘ وہ میرے قریب آیا ’’ صاب لیکن اصل بات کچھ اور ہے۔تیس سال پرانی بات ہے۔اس جگہ ویرانہ تھا ،بس ایک دو گھر ہوا کرتا تھا یہاں ۔اب ساری کالونی بن گئی ہے ادھر ۔تیس سال پہلے جب یہ سڑک نئی نئی بنی تھی تو یہاں رہنے والوں کی ایک بچی تین پہیوں والی سائیکل چلاتی ادھر سڑک کنارے آگئی ،سڑک پر کھڈا سا بن گیا تھا ۔ ایک افیمی ڈرائیور اس کھڈے کو بروقت نہ دیکھ سکا ۔ٹرک کے ٹائر اس میں لگے تو ٹرک اچھلا ،پھر الٹ گیا اور کنارے پر کھیلتی بچی اسکے تلے آکر کچلی گئی ۔وہ دن اور آج کا دن ۔پلی پر جب بڑا کھڈا بنتا ہے،وہ بچی اسی سائیکل پر یہاں نظر آتی ہے،لوگ گھبرا جاتے ہیں ۔کچھ تو بھاگ جاتے ہیں کچھ آپ جیسے رک کر اس بچی کو تلاش کرتے ہیں

آپ جائیے اور اس بچی کے لئے دعا کرائیں کہ اللہ اسکی روح کو قرار دے۔‘‘
یہ کہانی ناقابل یقین تھی ،لیکن میرا تو اس واقعہ سے واسطہ پڑچکا تھا ۔میں نے بہت غور کیا اورپھر ایک یقین کے ساتھ میں نے واپس آکر اس پلی اور کھڈے کی کی رپورٹ بنائی اور خود اپنی نگرانی میں اس کھڈے کا پکا علاج کرادیا ۔پھر پلی پر کھڑے ہوکر اس بچی کی روح کے چین کے لئے دعا کی جو مرنے کے بعد دوسروں کو کسی حادثہ سے بچانے کے لئے خود سڑک پر آجاتی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں