35

چھیالیس سال تک حاملہ رہنے والی خاتون نے کس چیز کو جنم دیا

عورت خدا کی وہ تخلیق ہے جو نظامِ دنیا اور زندگی کو آگے بڑھانے میں ایک اہم کردار رکھتی ہے۔ دنیا میں انسانوں کی پیدائش کا سلسلہ عورت کے ذریعہ عمل میں آتا ہے۔ 9 مہینے کی تکلیف اور محنت کے بعد،جس میں گہرے جذبات شامل ہوتے ہیں، عورت ایک دوسرے انسان کو جنم دیتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی قدرت اور سائنس کے ایسے کرشمے بھی سامنے آجاتے ہیں جن کے سامنے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

یہ کہانی ہے مراکش میں رہنے والی ایک خاتون زہرہ ابوطالب کی۔ جنہوں نے اولاد کو جنم دینے کے لئے 9 مہینے نہیں بلکہ 46 سال حمل برقرار رکھا۔ حیرت کن بات یہ ہے کہ کیا دنیا میں ایسا اتفاق ممکن بھی ہے؟ لیکن میڈیکل سائنس کی تاریخ میں ایسے کُل 300 واقعات پیش آچکے ہیں جن کا ریکارڈ موجود ہے۔سن 1955 میں زہرہ کی عمر 26 برس تھی جب ان کا حمل وجود میں آیا۔ اس دوران انہوں نے کوئی میڈیکل امداد حاصل نہیں کی اور اپنی اولاد کی پیدائش کسی ہسپتال کے بجائے گاؤں کی دائیوں کے ذریعہ کروانے کا فیصلہ کیا۔ نو مہینے بعد جب پیدائش کا وقت قریب آیا تو چیزیں توقع کے بر خلاف ہونے لگیں۔ دو دن تک درد میں مبتلا رہنے کے بعد بھی زہرہ کے یہاں پیدائش عمل میں نہ آسکی، جس کے بعد ان کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ڈاکٹرز نے انکی حالت دیکھ کر سی سیکشن یعنی آپریشن کے زریعہ پیدائش عمل میں لانے کی تجویز دی۔ لیکن اسی دوران زہرہ نے ایک عورت کو پیدائش کے وقت موت کے منہ میں جاتے دیکھا،

جسکی وجہ سے انہوں نے آپریٹ کروانے سے انکار کردیا۔ ڈاکٹرز کی اجازت لئے بغیر وہ اسی تکلیف کے ساتھ اپنے گاؤں واپس آگئیں۔ مزید دو دن گزرے اور تکلیف کے ساتھ ساتھ جسم کے اندر موجود متحرک وجود بھی تھم گیا۔ زہرہ کو نہیں پتہ تھا کہ انکے اور انکے بچے کے ساتھ کیا ہوا۔ وہ بھی اس واقعہ کو اس زمانے میں مانے جانے والی کہانی سمجھ بیٹھیں جس کا نام ‘سلیپِنگ چائلڈ مِتھ’ ہے۔زہرہ کا ماننا تھا کہ کبھی نا کبھی وہ اپنی اولاد کو جنم ضرور دینگی۔ انہوں نے یہ سب بھلا کر معمول کی زندگی گزاری اور کچھ بچے گود لے کر انہیں پالا۔ لیکن 46 سال بعد وہ ہوا جو انہوں نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ اس وقت انکی عمر 75 برس تھی جب انہیں دوبارہ اسی تکلیف سے دوچار ہونا پڑا جو حمل کے وقت انہیں پیش آئی تھی۔ ڈاکٹرز نے اس تکلیف کی وجہ ‘اووریز’ میں پیدا ہونے والے ٹیومر یا کینسر بتائی۔ایم آر آئی کے زریعہ انکے اندر موجود چیز کی شناخت کرنے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ وہ مادہ انکا بچہ ہے جومردہ ہوکر ‘کیلسیفائی’ ہوچکا ہے۔ یعنی پتھر بن چکا ہے۔ بچے کا جسم کے اندر پتھر بن جانا ‘لیتھیوپیڈیا’ کہلاتا ہے۔ ایسا واقعہ بہت شازونادر ہی ہوتا ہے۔

عمومی طور پر بچے کے مردہ ہونے کی صورت میں اگر طبی امداد نہ لی جائے توعورت کی موت واقعہ ہوسکتی ہے۔ مگر زہرہ کے ساتھ ایسا نا ہونا ایک معجزہ تھا۔لیکن اب بھی بات خطرے سے خالی نہیں تھی۔ 46 سال پرانا مسئلہ اور زہرہ کی عمر آپریشن کرنے کے لئے پریشان کن تھی۔بہرحال ڈاکٹرز کی مہارت نے زہرہ کا آپریشن کامیاب بنایا۔ آخرکار زہرہ کو پتہ چل گیا کہ انکے ساتھ کیا ہوا تھا اور اب وہ اس بچے کو درحقیقت جنم دینے میں کامیاب ہوئیں۔زہرہ شکرگزار ہیں کہ انکی زندگی بچ گئی اور وہ ایک نارمل زندگی گزار رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں