403 Forbidden


openresty
ماؤں کی محبت بھری ناراضگیاں » لطیفوں کی دنیا

ماؤں کی محبت بھری ناراضگیاں


1

ویسے تو دنیا میں بہت سے رشتے اگر قسمت سے مل جائیں تو پائے داراور محبت کے قابل ہوتے ہیں اور ہر رشتے میں اونچ نیچ بھی ہوتی رہتی ہے مگرماں اوراولاد کا رشتہ ایسا ہے جس کی دنیا کی کوئی طاقت وضاحت نہیں کرسکتی اللہ نے اس رشتے کو سب سے زیادہ وفاداربنایا ہے۔ ماں اور اولاد کے رشتے میں بھی اتار چڑھاؤآتے رہتے ہیں انتہائی مخلص ہونے کے باوجود اس رشتے میں بھی ماؤں کی اپنے بچوں سے بہت سی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کیوںکہ ماں ایک لمبے عرصے تک اپنی اولاد کو اپنے اندررکھ کر اسے محسوس کرتی ہے اس کے لئے تکلیف سہتی ہے ایسے میں جب وہ اپنی اولاد کو حاصل کرلیتی ہے توبھی اسے پالنے کے لئے سوسو جتن کرتی ہے اسے ہردرد ہر پریشانی سے بچاتی ہے ماں کی اتنی قربانیوں کے بعد اگر وہ اولاد سے کچھ امیدیں رکھ لے تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟ آخرہررشتے ہیں ایسا ہی تو ہوتا ہے کہ نا چاہتے ہوئے بھی آپ دوسروں سے بہت سی امیدیٰں لگا بیٹھتے ہیں وہ تو پھر ماں ہے۔ ایسے معاملات میں جب ماں کا مان اولاد پر سے ٹوٹ جاتا ہے تو وہ اپنے اس مان کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے کچھ ایسا رویہ اپناتی ہے جسے دنیا کی نظرمیں غیر مناسب کہا جاتا ہے آئیے پاکستانی ماؤں کا یہ غیرمناسب رویہ دیکھتے ہیں جو دراصل انکی اولاد سے محبت کا ایک رنگ ہے جس کے ذریعے سے وہ اولاد کو اسکی غلطی بتا کر اپنی بات منوالیتی ہیں۔

میں نے اپنے آپ کو تمہاری خاطر ختم کرلیا

ماؤں کی ناراضگی کا یہ جملہ عموما” اس وقت ہوتا ہے جب انکی باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی یا سنی ان سنی کردیا جاتا ہے ایسے میں وہ روتے ہوئے یہ جملہ کہہ جاتی ہیں۔

نو مہینے اپنے اندر اس لئے رکھا تھا تمہیں؟

یہ جملہ نافرمانی کے جواب میں سننے کو ملتا ہے۔

سارا دن گرمی میں اس لئے کھڑی ہوتی ہوں تاکہ تم میرے کھانے پر منہ بناؤ؟

یہ جملہ امّیاں سبزی یا دال کے بنانے پراولاد کے ردعمل کے جواب میں سناتی ہیں۔

سوچا تھا بٖڑھاپے میں اولاد میرے نخرے اٹھائے گی اور اب دیکھو

یہ جملہ امیاں اولادوں کو ان کی لاپرواہی کے موقع پران کودے مارتی ہیں۔

جب تم خود اپنے بچوں کے ہاتھوں تنگ ہوگی/گے تو تمہیں پتا چلےگا کہ ماں کی تکلیف کیا ہوتی ہے

یہ جملہ امیوں کو ستانے یا ان کی بات کو اہمیت نہ دینے پر سننا پڑتا ہے۔

اب تو تمہیں بولنا آگیا ہے اب تو تم ایسے ہی مجھ سے بات کروگے

یہ جملہ ماؤں سے بدتمیزی سے بات کرنے پر سننے کو ملتا ہے جب وہ بہت زیادہ جذباتی ہوجاتی ہیں۔

تمہیں پڑھائی میں اچھا دیکھنے کے لئے اپنی زندگی کا انجوائے منٹ ختم کردیا میں نے اور تم نے یہ گُل کِھلایا ہے

یہ جملہ پڑھائی میں برے مارکس آنے پر ماؤں کے منہ سے نکلتا ہے۔

سودا لینے جا رہے ہو یا میں خود چلی جاؤں؟

یہ جملہ مائیں اس وقت سناتی ہیں جب بیٹے سے سودا لانے کا کہا ہو اور کافی دیر کے بعد بھی وہ نہ لائے۔

میں نے تمہاری خاطر اپنا سارا زیور بیچ دیا اور تم میری ایک معمولی سی خواہش پوری نہیں کرسکتے

یہ جملہ مائیں اس وقت اولاد کو کہتی ہیں جب انہیں ان سے کوئی کام نکلوانا ہوتا ہے یا جب ان کے بیٹوں کی شادی بیاہ کا معاملہ درپیش ہوتا ہے۔

لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں اولاد واقعی بھول جاتی ہے

یہ جملہ اس وقت سناتی ہیں جب اولاد ان سے نافرمانی یا بدتمیزی کرے۔

اب تو تمہاری شادی ہوگئی ہے میری تو دو کوڑی کی اوقات ہوگئی ہے

یہ بات مائیں زیادہ تر بیٹوں کو بہو پہ رکھ کر سناتی ہیں کہ اب توبیٹا بہو کو اہمیت دے گا ماں کو ذلیل کرے گا (استغفراللہ)

مائیں اولاد کو چاہے کچھ بھی کہہ لیں انکا وہ مطلب نہیں ہوتا ایسا میری امی بھی کہتی ہیں :ڈ۔۔۔
اتنا ضرور ہے کہ یہ سب کچھ ، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ، انکی محبت کا ایک رنگ ایک مان ایک امید ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اورعمر کے تقاضوں کے باعث جذباتی ہونے کی وجہ سے طنز کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے ورنہ ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ ہم سے بہت محبت کرتی ہیں اور ایسے ہی ہم ان سے محبت کرت ت۔۔۔ نہیں اس سے کم۔۔۔ کیونکہ ان کی محبت کے جیسی دنیا کی کوئی دوسری محبت نہیں ہے اس لئے ہم بھی ان سے بہت محبت کرتے ہیں مگر ان کی محبت سے کم کرتے ہیں۔


Like it? Share with your friends!

1

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
6
love
lol lol
0
lol
omg omg
0
omg
win win
1
win

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

لطیفوں کی دنیا