اسلام نے خنزیر کو کیوں حرام قرار دیا ہے؟


2

اسلام نے خنزیر کو کیوں حرام قرار دیا ہے؟

ناظرین ویسے تو یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ خنزیر جسے سور بھی کہا جاتا ہےاس کا گوشت کھانے کو اسلام نے سختی سے منع فرمایا ہے اور یہ حکم اپنے اندر کئی مصلحتوں کو سموئے ہوئے ہے۔ غیر مسلم تو اسکو کھاتے ہی ہیں ساتھ ساتھ انکے اور بعض مسلمانوں کے دلوں میں بھی اس کی وجہ جاننے اسکی مصلحت سے پردہ فاش کرنے کے لئے سوالات اٹھتے ہیں۔ قرآن پاک میں کم سے کم 4 مقامات ایسے ہیں جہاں خنزیر کا گوشت کھانے کی ممانعت آئی ہے۔ جس میں سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 3 میں کچھ اس طرح سے واضح بیان ہے۔

تم پر حرام کی گیا مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے

قرآن کریم میں یہ احکامات اتنے واضح ہیں کہ جو مسلمانوں کو مطمئن کردیتے ہیں کہ خنزیر کا گوشت حلال نہیں ہے۔

قرآن پاک کے سوا اس کے حرام ہونے کا ذکر عیسائیوں کی کتاب بائبل میں بھی آتا ہے جس میں بھی واضح طور سے اسکا گوشت کھانے سے منع آیا ہے۔

بائبل کی کتاب پرانا عہد نامہ احبار باب نمبر 11 آیت 7 اور 8 میں اسکا ذکر موجود ہے۔
اور سور کو کیونکہ اسکے پاؤں الگ اور چرے ہوئے ہیں پر وہ جگالی نہیں کرتا وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے تم اس کا گوشت نہ کھانا ان کی لاشوں کو نہ چھونا وہ تمہارے لئے ناپاک ہے۔

عیسائیوں کی ہی کتاب افتشنا کے الفاظ یہ ہیں ۔
اور سور تمہارے لئے اس لئے ناپاک ہے کہ اسکے پاؤں تو چرے ہوتے ہیں پر وہ جگالی نہیں کرتا تو تم انکا گوشت نہ کھانا اور انکی لاشوں کو ہاتھ نہ لگانا
اوراسی طرح سے انکی عہد نامہ کی کتاب یسیا کے باب 65 اشعار نمبر 2 سے 5 تک میں بھی ایسے ہی الفاظ درج ہیں۔

ناظرین ہم مسلمان کیوںکہ اللہ کو ایک مانتے ہیں اسلئے ہم اسکے احکامات کو دل و جان سے مانتے ہیں اور ہمارے لئے اسکا حکم ہی کافی ہے مگر غیرمسلموں کو عقلی دلائل درکار ہوتے ہیں اسلئے آئیے ہم اس حکم کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں اور ان سائنسی دریافتوں کو جانتے ہیں جو حال ہی میں پورک پر ہوئی ہیں۔

ان تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ خنزیر کا گوشت کسی طور بھی صحت بخش نہیں ہوتا بلکہ پورک کھانے سے 70 کے قریب بیماریاں ایسی ہیں جو لاحق ہوسکتی ہیں۔ عام طور سے انسانوں میں کئی طرح کے کیڑے ہوتے ہیں جیسے کہ
Round worm, pin worm or thread worms, hook worms
وغیرہ ان کیڑوں میں ایک پیٹ کا کیڑا بہت خطرناک ہے جسے
Tape worm یاعام زبان میںtaenia solium
کہتے ہیں۔ یہ کافی لمبا ہوتا ہے اور اس کی رہائش انسانی آنت ہے اور وہیں یہ انڈے بھی دیتا ہے جن کانام سائنسی زبان میں
Ova
ہے۔ یہ انڈے جب جسم میں شامل ہوجائیں تو خون کے ساتھ سفر کرکے جسم کے کسی بھی حصے میں پہنچ سکتے ہیں اور اگر یہ دماغ تک پہنچ جائیں تو کسی بھی انسان کی ہادداشت پر شدید برے اثرات ڈالتے ہیں اگر دل تک پہنچیں تو
Heart attack
کی وجہ بن سکتے ہیں اسکے علاوہ آنکھوں میں پہنچنے کی وجہ سے انسان آنکھوں کے موتیا یا نابینا پن کاشکار ہوسکتا ہے۔ جگر کو بھی انکی وجہ سے شدید نقصان ہوسکتا ہے۔ یعنی یہ انسان کے جسم کے کسی بھی حصے میں اگر پہنچ جائیں تو اعضاء کو تباہ کرسکتے ہیں۔ یہ
Tape worms
خنزیر کے گوشت میں بہت زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں جو اگر انسان کے جسم میں پہنچ جائیں تو کسی بھی اعضائے انسانی کو بےکار کرنے کے لئے کافی ثابت ہوتے ہیں۔

ایسا ہی ایک اور کیڑا خنزیر کے گوشت میں کافی مقدار میں موجود ہوتا ہے اس کا نام
Tafilia worm یا Trichiura worm
ہے اور کافی نقصان کا باعث بنتا ہے۔ عام طور سے ایک سوچ لوگوں میں پھیلی ہوئی ہے اگر وہ خنزیر کا گوشت پکالیں گے تو
Temperature
کے باعث ان میں موجود کیڑوں کے انڈے مر جائیں گے اورجسم کو نقصان نہیں دیں گے مگر ایسا نہیں ہوتا کیونکہ ایک تحقیق جو امریکہ میں ٹرائی کیورا کیڑے سے متاثر 24 افراد پر کی گئی تھی اس کے مطابق ان 24 میں سے 20 افراد نے سور کے گوشت کو خوب اچھی طرح سے پکاکر کھایا تھا مگر پھر بھی یہ کیڑے ان کے اجسام میں بہت زیادہ مقدار میں پائے گئے تھے اسکا مطلب یہ ہوا کہ یہ کیڑے عام درجہ حرارت پر پکنے کے باوجود بھی زندہ رہتے ہیں۔

مزید برآں خنزیر کے گوشت میں پٹھوں یا
Muscles
کی گروتھ یا صحت کے لئے موزوں اجزاء بہت ہی کم پائے جاتے ہیں بلکہ اسکے اندر چربی بہت زیادہ مقدار میں پائی جاتی ہے۔ یہ چربی جسم میں خون کی نالیوں میں جمع ہوجاتی ہے اور
stress hypertension
اور
heart attack
کی باعث ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 50 فیصد سے زیادہ امریکن لوگ اس
Hypertension
کے مرض میں مبتلا ہیں۔

خنزیر دنیا کا سب سے غلیظ اور ناپاک جانور ہے جو گندگی ، غلاظت اورخود اپنا اور دوسروں کا فضلہ کھاتا ہے۔ ایسے گاؤں اب بھی دنیا میں موجود ہیں جہاں
Toilets
نہیں ہوتے ایسے میں لوگ کھلے مقامات پر رفع حاجت سے فارغ ہوتے ہیں ان فضلوں کو سور کھا جاتے ہیں اور یہی اس جانور کی پسندیدہ غذاہے۔ اس لئے سوچیئے ایسا جانور جو فضلہ کھاتا ہو اسکا گوشت کیسے پاک ہوسکتا ہے؟

اکثر لوگ اس بات پر سوچتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ملکوں میں خنزیر کی نسل اور انکی پرورش بہت صاف ستھری جگہوں اور ماحول میں ہوتی ہے مگر پھر بھی اصلیت یہ ہے ایک ہی فارم میں ہوتے ہوئے بھی سب سور ایک ساتھ نہیں رہتے بلکہ ایک سور کو دوسرے سے جدا رکھا جاتا ہے اسکی وجہ یہ ہے اس جانور کی فطرت میں ہی غلاظت بھری ہوئی ہے اس لئے یہ اپنے جیسے دوسرے سوروں کی غلاظت یعنی انکا فضلہ کھاتا ہے۔

سور میں بہت زیادہ بےشرمی بھی پائی جاتی ہے بلکہ پوری زمیں میں سور ہی سب سے زیادہ بےشرم جانور ہے کیونکہ اسکی شریک کے ساتھ اسکے دوست بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہی سب کچھ امریکنز میں ہوتا ہے جب وہ سور کا گوشت کھانے کے بعد ناچ گانے اور رقص و سرور کی محفلیں سجاتے ہیں شراب پیتے ہیں اور اسی مستی میں اپنی بیویوں کو دوسروں کو سونپ دیتے ہیں۔ اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اوپر اس جانور کا گوشت کھانے کا کتنا گہرا اثر ہے۔

اسلئے اللہ نے قرآن میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ہم مسلمانوں کو حکما” اس غلیظ اور گندے جانور کو کھانے کو منع فرمادیا ہے۔ اللہ تمام مسلمانوں اس سے محفوظ فرمائے آمین۔


Like it? Share with your friends!

2

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
2
love
lol lol
0
lol
omg omg
2
omg
win win
1
win

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

لطیفوں کی دنیا