برکت کیوں نہیں ہوتی؟


-1

برکت کیوں نہیں ہوتی؟

ناظرین آج کل لوگوں کو کہتے سنا گیا ہے کہ گھر میں برکت نہیں ہے ایسا کیا کِیا جائے کہ ہمارے گھر اور کاموں میں برکت آجائے اور کبھی ختم نہ ہو؟ ایسی کیا کوتاہیاں غلطیاں ہیں جنہیں دور کِیا جائے جوہمارے یہاں بے برکتی کا باعث ہیں۔ اسی لئے ناظرین آج ہم یہ ٹاپک لائے ہیں جس کے ذریعے سے ہم آپ کو بتائیں گے کہ وہ فعل یا وہ کام یا وہ عوامل جن کے کرنے سے اگر آپ نے کئے ہیں تو آپ کے گھر میں برکت نہیں رہی اسلئے ایسے کاموں کے کرنے سے اجتناب کریں تاکہ آپ کے گھروں اور کاموں میں اللہ اپنی رحمت فرمائے اس طرح جب اللہ کی رحمت آپ کے گھروں میں اور آپ کے ہر کام میں شامل ہوگی تو آپ کی ہرچیز میں برکت ہوگی اور آپ کے سب کام آسان ہوسکیں گے۔ ایسے کام تین ہیں جن کے کرنے سے گھر میں کبھی برکت نہیں آ سکتی۔

پہلا کام ہے جھوٹ بولنا

جھوٹ بولنے کو سخت ناپسند کیا گیا ہے اس کے بارے میں کافی سخت وعیدیں بھی موجود ہیں اور جھوٹ بولنا ایسا کریہہ فعل ہے یعنی ایسا کراہیت والا عمل ہے جس کے کرنے کی وجہ سے انسان میں اور بہت ہی برائیوں کی عادت ہوجاتی ہے۔ اچھی سیرت کے بارے میں ناظرین ہم آپ کو ایک بہت ہی مشہور واقعہ سناتے چلیں کہ ایک آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے بتایئے میں ایسا کیا کروں کہ میں بہت سے گناہ چھوڑنا چاہتا ہوں؟ تو اسے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فرمایا اسکا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے کہ تم صرف جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔ یہ واقعہ کافی شہرت کا حامل ہے کہ اس شخص نے جھوٹ بولنا چھوڑدیا تو آہستہ آہستہ اسکے سارے گناہ بھی چھوٹتے چلے گئے۔
اس بات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جھوٹ بولنا ایک ایسی برائی ہے کہ جس کی وجہ سے باقی تمام گناہوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ جھوٹ بولنے کی وجہ سے انسان میں اور بہت سی برائیوں کی عادت ہوجاتی ہےاور یہ پیاری حدیثِ مبارکہ اسی بات کو ثابت بھی کرتی ہے۔ دراصل جھوٹ بولنا باقی گناہ کی طرف پہلے قدم کی سی حیثیت رکھتا ہے اور اسکے بارے میں ایک مقولہ بھی بہت مشہور ہے کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے کئی مزید جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ تو ناظرین یہ بات ثابت کرتی ہے جھوٹ بولنا ایک سخت ناپسندیدہ گناہ ہے اور اسکی کافی سخت وعیدیں بھی ہیں یہاں تک کہ قرآن کریم میں جھوٹوں پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور سورہ اٰل عمران میں اسکا بیان موجود ہے۔ اسلئے ناظرین کوشش کریں کہ جھوٹ نہ بولیں اسکے کئی نقصانات ہیں ایک تو گناہ پھر سخت وعیدیں دنیا آخرت کے لئے ہیں تیسرا اور سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اسکی وجہ سے گھر اور کام یا کاروبار میں برکت نہیں رہتی۔

دوسرا کام جس سے رزق میں برکت نہیں رہتی وہ رزق کی بے ادبی کرنا ہے

جی ناظرین رزق کی بے حرمتی بے ادبی کرنے سے بھی گھر، کام اور مال و دولت سے برکتیں چلی جاتی ہیں۔ شادیوں ہی کی مثال لے لیں کہ اکثر و بیشتر دیکھنے میں آیا ہے کہ شادیوں میں کھانے کو کھایا کم جاتا ہے اور پھینکا زیادہ جاتا ہے دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ حوکے میں پلیٹوں میں زیادہ زیادہ نکال لیتے ہیں پھر اچھا خاصہ کھانا ویسے کا ویسا ہی چھوڑ کر دوسرے لوازمات کی طرف بڑھ جاتے ہیں یوں انکا نکالا ہوا ایکسٹرا کھانا پھینک دیا جاتا ہے۔ یہ بات رزق کی بے ادبی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس طرح رزق کی بے ادبی کرنے پر رزق اور مال و دولت میں سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے میں ہم سوچتے ہیں کہ رزق کے دوسرے وسائل کیسے پیدا کریں لیکن اس مسئلے کی طرف ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا۔ اس لئے رزق کی بےحرمتی بالکل نہ کرنا چاہیئے کھانا اتنا ہی نکالیں جتنی بھوک ہے زیادہ نکال کر ضائع نہ کریں اتنا یاد رکھیں کہ آپ کے نصیب کا کھانا آپکو ہی ملے گا کسی اور کے منہ میں نہیں جائے گا۔ اسلئے جتنی بھوک ہو جتنا آپکو پتا ہو کہ آپ کھا سکتے ہیں صرف اتنا ہی اپنی پلیٹ میں نکالیں۔ باقی اوروں کے لئے چھوڑ دیں تاکہ باقی لوگوں کو بھی وہ کھانا میسرآسکے۔ اور کیا پتا غریبوں کا بھی اس میں حصہ ہو۔ اتنا ہی پکائیں جتنا آپکو پتا ہے کہ کھا لیا جائے گا۔ اس لئے رزق کی عزت کریں شکر ادا کریں کہ اللہ عنایت کر رہا ہے رزق کی بے حرمتی سے اجتناب کریں گے تو ان شاءاللہ اللہ ہر چیز میں برکت عنایت کرے گا رزق کے روٹی کے مال و دولت کے دروازے آپ کے لئے کھول دے گا۔

تیسرا کام جس کے کرنے کی وجہ سے رزق میں تنگی کا سامان ہوتا ہے وہ ہے نماز سے کوتاہی کرنا

نماز اسلام کا پہلا اور بنیادی رکن ہے اگر آپ نماز نہیں پڑھتے یا کوتاہی کرتے ہیں یا کبھی پڑھ لی کبھی نہیں پڑھنے والا معاملہ رکھتے ہیں تو ایسے میں آپ کو کم ہی امید رکھنی چاہیئے کہ اللہ آپ کے گھر میں یا مال میں یا کام میں برکتیں عنایت فرمائے گا کیونکہ اللہ کا یہ حکم انتہائی واضح ہے تو اگرآپ اللہ کے اس واضح حکم کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز کو ترک کردیں گے تو پھرآپ کفر اختیار کریں گے ایسے میں کسی بھی طرح کی برکت کی امید رکھنے کے آپ حقدار نہیں رہتے۔ اسلئے نماز ضرور پڑھیں کیونکہ اگر آپ پورے دل اور خشوع و خضوع سے نماز پڑھیں گے تو آپ کو احساس ہوگا کہ نماز میں ایک سرور ہے اس سے جیسے دل اور دماغ کو سکون حاصل ہوتا ہے نماز ہی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اور نماز کے بغیر نہ دل کو کسی طور سکون ملتا ہے نہ اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ نماز چھوڑنے کی بھی سخت وعید و رسوائی ہے ایک مسلمان ہونے کی پہچان ہی اسکا نماز پڑھنا ہے اور جب ایک مسلمان نماز پڑھتا ہے تو وہ عاجزی و انکساری کا پیکر بن جاتا ہے اور یہ اللہ کو بہت پسند ہے کیونکہ یہی انسان کی اصل حیثیت ہے جو نماز میں سجدوں سے میسر آتی ہے۔ نماز چاہے جو بھی ہو وہ ہمارے لئے رحمت و فضیلت اور اللہ کی حمد و ثناء ہے نماز ایک دعا بھی ہے۔ اللہ بےنیاز ہے اسے ہماری نماز کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسکے پڑھنے میں دینوی و دنیاوی دونوں لحاظ سے صرف ہمارا ہی فائدہ ہے۔ یہ تیسری چیز ہے جس کے نہ کرنے سے گھروں کاروبار اور کئی چیزوں سے برکت ختم ہوجاتی ہے اسلئے اپنے ساتھ ایسا ہونے سے خود کو بچائیں خود بھی نماز پڑھیں اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی نماز پڑھنے کی ترغیب دیا کریں تاکہ دنیا اور آخرت کے سنورنے کا کچھ سامان ہوسکے اور دنیا میں آپ کے گھروں کاموں اور ہر چیز میں برکت مل سکے۔


Like it? Share with your friends!

-1

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
1
love
lol lol
0
lol
omg omg
0
omg
win win
0
win

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

لطیفوں کی دنیا