جنرل ضیاء الحق کا زبردست عزم


1

جنرل ضیاء الحق کا زبردست عزم

ناظرین یہ ذکر اس وقت کا ہے جب ہمارے ہمسائے ملک انڈیا نے راجستھا ن میں یعنی اس کے بارڈر پر اپنی فوجیں بھیج دی تھیں یہ سال 1987 کا تھا جب انڈیانے پاکستان سے جنگ کا عزم مسمم کربیٹھنے کی غلطی کردی تھی۔ بھارتی فوج پوری طرح سے تیار بیٹھی تھی ادھر پاکستان کی افواج نے بھی کمر کس لی تھی بھارت کی فوج کو جنگ شروع کرنے کے لئے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے حکم کا انتظار تھا ادھر وہ اشارہ کرتے اور ادھر انکی فوج جنگ کے لئے پہلا وار کرتی۔ راجیو گاندھی نہرو خاندان کے پوتے تھے اور جب اندرا گاندھی کا قتل ہوچکا تو انہوں نے کانگریس کی سربراہی اختیار کی اور بھارت کے وزیر اعظم بنے۔ اس وقت راجیو گاندھی کے مشیر خاص کا نام بہرم نام تھا۔ آج جو زبردست واقعہ ہم آپکو سنانے والے ہیں اس واقعے کو بہرم نام خود لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ انکی آنکھوں کے سامنے پیش آیا۔ اور کئی بار وہ اس واقعے کو مختلف جگہوں پر بیان بھی کر چکے ہیں۔

جس وقت کی یہ بات ہے اس وقت جنرل ضیاء الحق پاکستان کے صدر اور آرمی چیف تھے۔ جنرل ضیاء کے آس پاس کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انکو سمجھنا ایک بہت مشکل کام تھا۔ یہاں تک کہ انکے قریبی دوستوں تک کا کہنا تھا کہ وہ اندازہ نہیں لگاسکتے تھے کہ کس وقت جنرل ضیاءالحق کون سا ہنگامہ برپا کرنے والے ہیں۔

یہ محض اتفاق تھا کہ ان دنوں کرکٹ کےٹیسٹ میچز ہورہے تھے اورپاکستانی ٹیم انڈیا کے دورے پر انڈیا میں تھی ۔ ایک طرف میچ ہورہے تھے تو دوسری طرف دونوں ملکوں کی جنگ اپنی تیاریوں میں مکمل تھی۔ بس حکم کا انتظار تھا اور حالات ایسے تھے کہ اب حکم آیا کہ تب۔ ایسا لگتا تھا کہ اب یہ ایٹمی جنگ ضرور ہوگی۔ مگر اچانک ہی ایک عجیب بات ہوئی کہ جنرل ضیاء الحق نے دلی روانگی کے لئے اپنے صدارتی جہاز میں سفر کیا حالانکہ اس وقت انکو بھارت کی طرف سے کسی قسم کا کوئی دعوت نامہ نہیں دیا گیا تھا بلکہ یہ انکا ذاتی فعل تھا۔ بظاہرجس جس نے سنا اسے لگا کہ جنرل ضیاء الحق نے جے پور کے ٹیسٹ میچ دیکھنے جانے کے لئے ایسا کیا ہے مگر حقیقت کچھ اور ہی تھی جسے جب بھی ذکر کیا جاتا ہے تو پورے بھارت میں سنسی سی پھیل جاتی ہے۔

جنرل ضیاءالحق کے اس غیرسفارتی کام کی وجہ سے بھارت ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں تجسس دوڑ گیا کہ پتا نہیں اب جنرل ضیاءالحق کیا کرنے والے ہیں سب حیران تھے۔ ایسے میں بھارت کے وزیراعظم راجیو گاندھی جنرل صاحب سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے تھے مگر انکو یہ ملاقات اسلئے کرنا پڑی کیونکہ انکی کابینہ اور آپوزیشن پارٹیز نے انکو اس بات پر مجبور کردیا کہ وہ ضرور ائیر پورٹ جائیں اور جنرل ضیاءالحق کا استقبال بھی کریں ورنہ پوری دنیا میں ان کی بدنامی ہوگی۔

راجیو گاندھی ائیر پورٹ گئے کہ نہیں اور جنرل ضیاء الحق کے ائیرپورٹ پہنچنے کے بعد کیا ہوا آئیے یہ ہم راجیو گاندھی کے مشیر خاص بہرم نام کی زبانی سنتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ:
راجیو گاندھی کو کابینہ اور اپوزیشن لیڈرز نے بہت سمجھایا اگر آپ ائیرپورٹ نہیں جائیں گے اور پاکستان کے صدر کا استقبال نہیں کریں گے تو بھارت کی عالمی سطح پر بہت بدنامی ہوگی اسی لئے ہمارے بہت سمجھانے پر راجیو گاندھی نئی دلی ائیرپورٹ پہنچ گئے۔ جنرل صاحب دلی کے ائیرپورٹ پر آئے راجیو گاندھی نے ان سے ہاتھ ملایا مگر ان سے نظریں نہیں ملائیں بلکہ منہ پھیر لیا اور مجھ سے کہنے لگے کہ بہرم نام جنرل صاحب میچ دیکھنے آئے ہیں انکے ساتھ رہواور میچ دیکھنے جئے پور بھی ان کے ساتھ جاؤ اور انکا خاص خیال رکھنا۔ یہ الفاظ جنرل صاحب کے لئے اپنے اندر بےعزتی سموئے ہوئے تھے اسلئے اس بات کے بعد وہاں موجود تمام لوگ ہکا بکا رہ گئے۔

راجیو گاندھی کے مشیر خاص مزید لکھتے ہیں کہ وہ اس بات پر جنرل صاحب کا رد عمل دیکھ کر حیران رہ گئے کیوں کہ اس بات کے بعد بھی ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی مگر بعد میں جب جنرل صاحب جے پور کے لئے رخت سفر باندھنے لگے تو بھرپور انداز میں اپنے ارادوں اور آمد کی وجہ بھی بیان کردی۔ وہ بے انتہاء ٹھنڈے انداز میں راجیو گاندھی سے کچھ یوں کہنے لگے ؛

“مسٹر راجیو آپ پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں آپ ضرور کریں مگر اس سے پہلے یہ یاد رکھیئے گا کہ اس حملے کے بعد دنیا بھول جائےگی کہ ہلاکو خان اور چنگیز خان کون تھے اور صرف راجیو گاندھی اور جنرل ضیاءالحق کو یاد رکھے گی کیونکہ یہ معمولی نہیں ایک نیوکلئیر جنگ ہوگی اور ہوسکتا ہے اس کے بعد پاکستان کا وجود نہ رہے مگر پھر بھی دنیا میں مسلمان موجود رہیں گے لیکن اتنا ضرور یاد رکھیئے گا مسٹر راجیو کہ اس جنگ کے بعد دنیا میں ایک بھی ہندو باقی نہیں بچے گا”

بہرم نام کا کہنا ہے کہ جنرل ضیاءالحق کی آنکھوں میں بہت سختی اور زبردست عزم تھا کہ وہ مجھے دنیا کے خطرناک ترین انسان لگے۔ وہ کہتے ہیں کہ میری ریڑھ کی ہڈی میں ایک سنسنی سی پھیل گئی اور راجیو گاندھی کی پیشانی پر پسینہ نظر آنے لگا۔

بہرم رام کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنرل صاحب نے یہ باتت انتہائی سنجیدگی سے کہی پھر وہ حسب معمول مسکرانے لگے اور مجھے اور راجیو گاندھی کو حیران و پریشان چھوڑ کر باقی لوگوں سے نہایت خوش اسلوبی سے ہاتھ ملانے لگے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ بھارتی وزیراعظم کو ایٹمی دھمکی دے کر جیسے بالکل ہلکے ہوگئے ہوں۔ انکا یوں اچانک موڈ مٰیں خوشکواری دیکھ کر کسی کو یہ اندازہ ہی نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ ابھی ابھی کچھ دیر پہلے راجیو گاندھی کوزبردست جوہری جنگ کی دھمکی دے چکے ہیں۔

بہرم رام لکھتے ہیں کہ وہ جنرل ضیاءالحق کے مضبوط اعصاب اورغیر معمولی اور پے در پےبدلتے ہوئے لہجے پر حیران رہ گئے۔

اس طرح اس اچانک اور پرحیران دورے کے نتیجے میں بھارت نے اپنی فوجیں راجستھان سے واپس بلانے میں ہی عافیت جانی۔ اور راجیو گاندھی نے جنگ کے ارادے کو بھی ملتوی کردیا اور اس طرح ہمارے زبردست صدر کی زبردست حکمت عملی کی وجہ سے کئی لوگوں کی قیمتی جانیں بچ گئیں۔

دعا ہے کہ اللہ جنرل ضیاءالحق کو اپنے جواہر رحمت میں خاص جگہ عنایت فرمائے اور ان سے راضی و خوش رہے آمین ثمہ آمین۔


Like it? Share with your friends!

1

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
1
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
3
love
lol lol
1
lol
omg omg
1
omg
win win
2
win

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

لطیفوں کی دنیا