دنیا کی پانچ ذہین ترین بینک ڈاکے


-3

دنیا کی پانچ ذہین ترین بینک ڈاکے
پہلے زمانوں میں آئے دن سننے کو ملتا تھا کہ بینک لٹ گیا مگر آج کل کے دور میں جدید کیمروں، ٹیکنالوجی اور
Security
کی وجہ سے بینکوں کو لوٹنا آسان نہیں رہا مگر پھر بھی یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ جرائم ہونا بند ہوگئے ہیں آج کل جس طرح سائنس اور ٹیکنالوجی نے ترقی کے منازل تیزی سے طے کئے ہیں اسی طرح جرم کی دنیا کے لوگوں نے بھی قانون کے محافظوں سے زیادہ سائنس اورٹیکنالوجی کو سمجھنا شروع کردیا ہے۔ ہمیں مختلف ملکوں میں
Bank robberies
کے بارے میں ٹی وی کھولنے پر پتا چلتا رہتا ہے۔ آج کل ان سب
Robberies
کا پیش خیمہ اعلٰی پائے کی ذہانت ہوتی ہے۔ یہ لوگ پہلے کے لوگوں کی طرح منہ چھپا کر گن لے کربینک میں سامنے نہیں آتے بلکہ یہ مہینوں تک اس روبری کو پلان کرتے ہیں۔ انکی اس پلاننگ میں بھرپور ذہانت اور مہارت نظر آتی ہے۔ آج کے اس ٹاپک میں ہم آپ کو پانچ دلچسپ
Robberies
کے بارے میں بتانے والے ہیں جن کے بیک پربہت ذہین و فتین لوگ اور پیشہ ورانہ ماہرین نظر آتے ہیں۔
Banco central heist بینکو سینٹرل ہائسٹ
سائریا جو برازیل کی ریاست ہے اس میں یہ ہائسٹ ہوئی جو تاریخ کی سب سے بڑی ہائسٹ کہلاتی ہے کیونکہ اس میں ہرطرح کی غیر معمولی ذہانت کو ہر طریقے سے ہرا دیا گیا تھا۔ 2005 میں ہوا یہ واقعہ جس میں 25 سے زیادہ افراد شامل تھے اس پلاننگ میں انہوں نے بینک کے قریب ہی کوئی
Property
کرائے پہ حاصل کر کے اپنے کام کو انتہائی صفائی سے کیا جس میں انہوں کے اپنی ایک کمپنی کے سائن بورڈز بھی لگائے کی جو کہ ایک
Landscaping company
تھی۔ انہوں نے ہر طرح کے شک سے خود بچایا یہاں تک کہ لوگوں کو دکھایا کہ وہ مصنوعی گھاس بھی بیچتے ہیں۔ بظاہر لوگوں کی نظر میں تو وہ معمولی کاروبار کرتے تھے مگر اندر ہی اندروہ کیا کر رہے تھے اس کی خبر ان کے پڑوسیوں تک کو نہیں تھی۔ دراصل وہ بینک کے تجوری والے کمرے تک پہنچنا چاہتے تھے جس کے لئے انہوں نے خفیہ راستہ اختیار کیا تھا اور انہوں نے اپنی کرائے والی پراپرٹی سے بینک کی جانب ایک سرنگ کھودنا شروع کردی تھی۔ اس سرنگ کو انہوں نے لکڑی سے پلاسٹک کی مدد سے بنایا اور انتہائی تسلی بخش بھی بنایا تھا یہاں تک کہ اس میں
Air conditioners
بھی لگائے۔ آخرکار اس کو تعمیر کرتے کرتے وہ بینک کی تجوری والے کمرے میں پہنچ گئے اس کے بعد انہوں وہاں بینک سے ستر ملین ڈالرز کی چوری کی۔ بتایا جاتا ہے کہ کچھ دن کے بعد اس گروہ کے پانچ افراد کو پکڑ لیا گیا تھا مگر ان سے زیادہ رقم کی وصولی نہیں ہوپائی تھی۔
Kent securitas depot
یہ robbery
بھی اپنی مثال آپ تھی اس ہائسٹ کو سب سے بڑی روبری کہا جاتا ہے جو برطانیہ میں ہوئی۔ اس روبری میں بھی ایک زبردست پلاننگ شامل تھی یہ روبری 21 فروری 2006 کی شام سے شروع ہو کر آدھی رات تک کامیاب رہی۔ اس روبری میں ڈکیت گروپ کے ایک گروہ نے ڈیپو کے مینیجر کو اسکی فیملی کے ساتھ اسکے گھر کے راستے سے اغوا کرلیا پھر اسکی فیملی کے ساتھ ہی اسے ڈیپو میں لے کر آگئے۔ اور وہاں کے اسٹاف کو بھی یرغمال بنا لیا جو کہ کل چودہ افراد تھے۔ اسکے بعد وہ ڈیپو کی پیسوں والی تجوری کو خالی کرتے رہے۔ اس گروپ نے ہرچیز وہاں سے صاف کردی جو کہ کل ایک سو دس ملین ڈالرز تھے۔ وہ اس سارے مال کو لوٹنے کے لئے وہاں رات دو بج کر پینتالیس منٹ تک موجود رہے ۔ پھر یہ گروپ کامیابی سے وہاں سے فرار بھی ہوگیا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اس گروپ کے آدھے لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ جن سے قریب چالیس ملین ڈالرز واپس مل گئے۔
The graff diamonds robbery
اب تک یہ برطانیہ کی تاریخ میں یہ سب سے بڑے ہیروں کی
Robbery
ہے۔ یہ 6 اگست 2009 کو ہوئی تھی جب دو سوٹڈ بوٹڈ ڈاکو خریداروں کی طرح اس گراف ڈائمنڈز میں داخل ہوئے جو کہ لندن میں واقع ہے۔ یہ دونوں ڈاکو بالکل عام لوگوں کی طرح کسٹمرز کی طرح ہی دکھائی دے رہے تھے مگر صرف چار گھنٹوں کی محنت کے بعد انہوں نے اپنا حلیہ بالکل تبدیل کرلیا۔ یہ دونوں
Cctv cameras
کے سامنے سے ضرور گزرے مگر پہچان میں نہ آسکے۔ ان دونوں نے 65 ملین ڈالرز کے ہیروں اور قیمتی جواہرات کی چوری کی۔ انہوں نے اپنے پاس موجود گن کے ذریعے وہاں کے اسٹاف کو ڈرایا بھی یہاں تک کہ کیمرے کی آنکھ نے سب کچھ دیکھا مگر انہوں نے ان کیمروں سے بالکل بچنے کی کوشش نہیں کی۔ اور نہ ہی کیمرے کی آنکھ کے دیکھے گئے مناظر کسی کے کام آسکے۔ اصل میں روبری کے بعد کسی بھی جگہ سے بچ نکلنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے اسی لئے ان کے پاس وہاں سے بھاگنے کا ایک بہترین
Escape plan
تھا۔ وہاں سے نکلتے ہی یہ مختلف گاڑیاں بدلتے رہے سب سے پہلے نکلتے ہی یہ ایک نیلی
BMW
میں چلے گئے پھر تھوڑی دور جا کر انہوں نے سلور رنگ کی
Mercedes
کار بدل لی۔ یوں ان کی خوش قسمتی تھی کہ وہ وہاں سے آسانی سے بھاگ گئے مگر وہ کہتے ہیں نا کہ چور اپنا سراغ ضرور چھوڑ جاتا ہے تو یہی حال انکا ہوا کہ ان کا موبائل فون وہیں رہ گیا۔ ان لوگوں کو ٹریس کرنے میں یہی سیل فون کام آیا جن کی شناخت بعد میں
Aman Kassaye اور Craig Calderwood
ناموں سے ہوئی۔
Harry Winston heist
یہ روبری بھی تاریخ کی بڑی روبریز میں شمار کی جاتی ہے جو فرانس کے شہر پیرس میں ہوئی۔ اس ہیری ونسٹن میں چار آدمی داخل ہوئے جن میں سے تین نے خواتین کا حلیہ بنا کر
Wigs
بھی لگائی ہوئی تھیں۔ ان سب کے پاس
Guns
تھیں انہوں نے وہاں پہ تمام لوگوں کو ایک سائڈ پہ جمع کیا اور یرغمال بنا لیا پھر ڈسپلے میں لگی سب جیولری پہ ہاتھ صاف کرنے لگے اس کے بعد انہوں نے وہ جگہیں جہاں اسٹورز میں قیمتی جیولری رکھی تھی ان کا بھی صفایا کیا قریب ایک سو آٹھ ملین ڈالرز انہوں وہاں سے اڑا لئے اور ہیری ونسٹن کا نقصان کیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ آسانی کے ساتھ وہاں سے فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے تھے یہاں تک کہ فرانس جسے یورپ کا سب سے پاور فل ملک کہا جاتا ہے وہ اس روبری کا پتا نہیں لگا سکا۔
Central bank of Iraq robbery
صدام حسین کے بارے میں کہا جاتا ہے صدام حسین ایک بہت بڑا
Dictator
تھا اور وہ اپنے دور ِحکومت میں عروج پر تھا۔ صدام حسین نے سینٹرل بینک آف عراق میں سے یہ ڈالرز اس وقت نکلوائے جب امریکی فوجیوں کا حملہ ہونے والا تھا۔ یہ واقعہ سال 2003 میں پیش آیا جب صدام حسین نے اپنے پیٹے قوسے کو بینک بھیجا اور ایک نوٹ پر لکھا کہ ان کے بیٹے کو ایک ملین ڈالرز کی رقم دے دی جائے ۔ کہا جاتا ہے کہ صدام حسین کے بیٹے نے پانچ گھنٹے لگا کر اس رقم کو ٹرکوں میں منتقل کیا اور نامعلوم مقام پر پہنچا دیا۔ اسکے ساتھ اسکے چند ساتھی بھی تھے۔ تین سال بعد صدام حسین کو امریکی فجیوں کے ہاتھوں پھانسی ہوگئی اور ان کے بیٹوں کو فوجیوں نے ماردیا۔ مگر اس رقم کے بارے میں آج تک کچھ بھی معلوم نہ ہو سکا۔


Like it? Share with your friends!

-3

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
0
fail
fun fun
1
fun
geeky geeky
1
geeky
love love
1
love
lol lol
1
lol
omg omg
4
omg
win win
0
win

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

لطیفوں کی دنیا