دنیا کے الگ تھلگ پراسرار مقامات


0

دنیا کے الگ تھلگ پراسرار مقامات

یوں تو دنیا میں کئی مقامات ہیں جنہیں لوگ دیکھتے ہیں کوئی سیر و تفریح کی غرض سے دیکھتا ہے تو کوئی سیاحت کے شوق میں مختلف مقامات دیکھتا ہے۔ دنیا میں چند ایسے مقامات بھی ہیں جنہیں کسی نے بھی نہیں دیکھا۔ اور کچھ ایسے بھی مقامات ہیں جہاں جانا تقریبا” نا ممکن ہے۔ آج کے اس ٹاپک میں ہم آپ کو چند ایسی ہی جگہوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے جو انتہائی پر اسرار ہٰیں.

اسنیک آئی لینڈ براذیل
یہ جزیرہ برازیل کے شہر ساؤپولو سے قریب بیس میل کے فاصلے ہر واقع ہے جس کا رقبہ صرف 43 ایکڑ ہے۔ یہ جزیرہ اپنے اندر موجود کئی زہریلے سانپوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ جیسے کہ گولڈ ن لانس ہیڈ وائپرجو اگر کسی انسان کو ڈس لے تو اسکے زہر سے اسکا جسم پگھل سکتا ہے۔ ایسے ہی کئی سانپ جن کی تعداد چار ہزار ہے وہاں پائے جاتے ہیں۔ مگر وہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق وہاں ہر پانچ فٹ کے فاصلے پر ایک سانپ رہتا ہے۔ اس جگہ جانے پر برازیلین حکومت کی طرف سے اسکے انتہائی خطرناک ہونے کے باعث پابندی لگ گئی ہے۔ حکومت کی طرف سے صرف اتنی اجازت ملتی ہے کہ کچھ سالوں کے بعد سائسدان سانپوں پر ریسرچ کرنے کی وجہ سے وہاں چلے جاتے ہیں ورنہ وہاں قدم رکھنا بھی منع ہے۔

ایریا 51
یہ ایک جگہ ہے جو امریکہ کے نوادر نام کے صحرا میں واقع ہے۔ امریکن ائیر فورس نے اس جگہ کو اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے مگر کئی عجیب و غریب باتیں اس جگہ کے بارے میں مشہور ہیں۔ یہاں کوئی بھی عام انسان نہیں جا سکتا یہاں تک کہ یہاں ائیر فورس کا بھی کوئی عام جہاز نہیں جاتا بلکہ ایک خاص جہاز جس کو جینیٹ ائیر لائن کہتے ہیں جاتا ہے۔ صرف ایریا 51 کی جانب ہی یہ جہاز اڑتے ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ اس کے پائلٹس کون ہیں اور یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ یہاں کون لوگ کام کرتے ہیں۔ اس ایریا کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں ان ایلینز کو رکھا جاتا ہے جن کے یو ایف اوز کریش ہوجاتے ہیں کہا جاتا ہے کہ وہ ان پر ریسرچ کرتے ہیں۔ یو ایف اوز وہ سیارہ نما چیز ہے جس پر ایلینز بیٹھ کر دنیا میں آتے ہیں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ وہاں واقعتا” ایلینز ہیں بھی یا نہیں ہیں۔ ابھی تک بس اتنا ہی معلوم ہو سکا ہے کہ ایریا 51 میں ایلینز اور ان کے یو ایف اوز موجود ہیں۔ وہاں صرف چند مخصوص لوگ جا سکتے ہیں اگر ان کے علاوہ کوئی جانے کی کوشش بھی کرے تو اسے گولی مار دی جاتی ہے۔ اس جگہ کی پر اسراریت اتنی زیادہ ہے کہ ہلیری کلنٹن نے وعدہ کیا تھا کہ انکے صدر بننے کے بعد وہ اس ایریا کے راز سب پر فاش کردیں گی مگر بد قسمتی سے وہ جیت نہ سکیں۔ اس جگہ کی تصویرکھینچنا بھی منع ہے۔

نارتھ سینٹینل آئی لینڈ
یہ بے آف بنگال کے اندر موجود ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ اسکا راستہ بہت خطرناک ہے اور یہاں پہنچنا بہت مشکل کام ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ یہاں جانا اس کا اصل مسئلہ نہیں ہے۔ کچھ خاص قسم کے لوگ جن کو سینٹینلسٹ کہتے ہیں وہ اس آئی لینڈ پہ رہتے ہیں۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ آدم خور ہیں اورصدیوں سے باہر کی دنیا سے خود انہوں نے رابطہ نہیں رکھا ہوا۔ یہ وہ آخری لوگ ہیں جن کا باہر کی دنیا سے رابطہ بالکل ختم ہے۔ 2008 کی بات ہے کہ ایک دفعہ دو مچھیروں کی کشتی غلطی سے اس جزیرے کے رخ چلی گئی بتایا جاتا ہے کہ ان کی کشتی پھر کبھی واپس نہیں لوٹی جن کو تلاش کرنے کے لئے کچھ ہیلی کاپٹرز بھی یہاں آئے مگر اس پہ ان لوگوں نے تیروں کی بارش کردی۔ آدم خوروں کے اس جزیرے پر قدم بھی نہیں رکھا جا سکتا۔

اییسے گرینڈ شرائن
یہ شرائن جاپان کے شہر اوجی ٹاکی میں ہے اومی کامی جسے دیوتا سمجھا جاتا ہے یہ شرائن دراصل اس کا گھر ہے۔ بتایا جاتا ہے اس شرائن کو آج سے 1700 سال پہلے بنایا گیا تھا اور اسکی تعمیر ہر ببس سال کے بعد پھر سے کی جاتی ہے۔ جاپانی امپیریل لوگوں کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ اس شرائن میں کیا جاتا ہے۔ اس عمارت کو عام لوگ صرف باہر سے ہی دیکھ سکتے ہیں اس کے اندرسال میں ایک دفعہ صرف امپیریل خاندان کے لوگ ہی جا سکتے ہیں۔

سب سے زیادہ خوفناک پویلی آئی لینڈ
یہ جزیرہ اٹلی کی سوغات ہے جو کہ اسکے شہر وینس سے قریب سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسکی تاریخ کہتی ہے کہ جنگی قیدیوں کو یہاں لا کر ٹارچر کر کے مار دیا جاتا تھا ۔ یہاں پر ایک مینٹل اسائلم یعنی پاگل خانہ بھی قریب پچاس سال پہلے کھولا گیا تھا۔ 1968 میں یہاں ایک ہسپتال بھی کھولا گیا تھا جو دماغی امراض کے لئے تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہاں مریضوں پرایک ڈاکٹر نے کچھ عجیب و غریب تجربات کیئے تھے مگر پھراس ڈاکٹر نے ہسپتال کی چھت سے کود کرخودکشی کرلی تھی جس کے بعد وہاں کیسے آگ لگی کوئی نہیں جانتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس جزیرے کو دنیا کے سب سے زیادہ خوفناک مقامات میں سے ایک قرار دیا جاتاہے ساتھ ہی مشہور ہے کہ یہاں جن بھوت رہتے ہیں اور اس ڈاکٹر کی روح جس نے خودکشی کرلی تھی یہاں بھٹکتی ہے۔ اس جزیرے کو اٹلی کی حکومت نے 99 سال کے لئے لیز پر دینے کی دعوت بھی دی تھی کہ کوئی کمپنی اس جگہ کو سیاحت کا مقام بنا دے ایک کمپنی نے کام شروع کرنے کے کچھ عرصے بعد کام روک دیا کیونکہ وہاں کام کرنے والوں کو کچھ عجیب و غریب قسم کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس لئے اب اس جزیرے کو سیاحت کے لئے کھولا نہیں جاتا۔

میحزےگورے
روس کا یہ شہر اب عام لوگوں کے لئے بند کیا جا چکا ہے یہ شہر 1969 میں آباد ہوا تھا یہاں کچھ خاص لوگ رہتے ہیں جو روسی حکومت سے تعلق رکھتے ہیں یہ بھی دنیا کے پراسرار مقامات میں سے ایک ہے اس شہر سے متصل ایک پہاڑ ماؤنٹ چمانٹا بھی ہے کہا جاتا ہے اس پہاڑ پر موجود کچھ لوگ کچھ کام کرتے ہیں امریکہ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اس مقام پر دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی ہتھیاروں کا جہاز ہے جبکہ رشیا کی حکومت اس بات کی مخالفت میں کہتی ہے کہ اس جگہ کو مایئنز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور یہاں بڑی جنگ کی صورت حال میں کھانے پینے کی اشیاء اسٹور کی جاتی ہیں۔ حقیقت جو بھی ہو بہرحال اس پہاڑاور اس شہر پر اب عام لوگوں کا جانا منع ہے۔

کنگ شی ہواینگ کا مقبرہ
یہ مقبرہ جائنہ کے پہلے بادشاہ کا ہے 210 قبل مسیح میں اس بادشاہ کی موت واقع ہوئی تھی یہ ایک پہاڑ کے نیچے دفن ہے جو کہ سینٹرل چائنہ میں موجود ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک پورا شہر اس بادشاہ کی قبر کے اندر آباد کیا گیا تھا جس کے پیچھے یہ سوچ کارفرما تھی کہ اگر اسے کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو اسے حاصل ہوسکے گی۔ یہاں مٹی سے اسکے فوجیوں، غلاموں گھوڑوں حتیٰ کہ اسکے خاندان کے لوگوں کے مجسمے اسکی قبر کے ساتھ بنادیئے گئے تھے۔ جو کل 2000 مجسمے ہیں۔ اسکی قبر1974 میں دریافت ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ مزید 8000 مجسمے اسکے قبر کے ساتھ ہی ہیں جنہیں دریافت نہیں کیا جا سکا ہے۔ عام لوگوں کو اجازت ہے کہ وہ یہ مجسمے دیکھ سکتے ہیں مگر بادشاہ کی قبر پر سخت پابندی ہے وہاں کوئی نہیں جا سکتا۔

میاکے جما
ناظرین اب جس جزیرے کے بارے میں آپ جان پائیں گے وہ سب سے خطرناک ہے وہاں جانا تو مشکل نہیں مگر وہاں رہنا آسان نہیں ہے اور پرخطر بھی ہے۔ یہ ٹوکیو جو جاپان کا شہر ہے سے 160 کلومیٹر کے فاصلے پر میاکےجما نام کا ایک جزیرہ ہے جو ایک آتش فشاء پہاڑ کی بنیاد میں ہے۔ لیکن اسکا اصل مسئلہ ایک گیس سلفرڈائی آکسائڈ ہے جو اس آتش فشا پہاڑ سے نکل جاتی ہے اور پھیل جاتی ہے۔ اس گیس اتنی زہریلی ہے کہ اس کے پھیلتے وقت وہاں سانس نہیں لیا جاسکتا ورنہ موت واقع ہوسکتی ہے۔ یہاں رہنے والے اپنے ساتھ ہر وقت چاہے کوئی بھی کام کر رہے ہوں کھانا پکانا سائکلینگ کرنا اسٹڈی کرنا ہر وقت ایک گیس ماسک اپنے ساتھ لگا کے رکھتے ہیں۔ 2000 عیسوی میں اس جزیرے کی فضاء کی خرابی کی وجہ سے یہاں سے لوگوں کو باہر نکالنا پڑا۔ لیکن یہاں پھر سے لوگ 2005 میں آکر آباد ہوگئے یہ آبادی 3000 افراد پر مشتمل ہے۔ ویسے تو سیاح اس جزیرے پر کم ہی جاتے ہیں مگر اگر کسی کی خواہش ہو تو یہاں جانے سے پہلے سیاحوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔ انکا میڈیکل چیک اپ ہوتا ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ لوگ ایسی جگہ کیوں رہتے ہیں تو اسکا جواب یہ ہے کہ یہاں رہنے کے لئے حکومت لوگوں کو پے کرتی ہے تاکہ ان پر ریسرچ کی جا سکے۔


Like it? Share with your friends!

0

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
1
confused
fail fail
1
fail
fun fun
1
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
0
love
lol lol
0
lol
omg omg
3
omg
win win
1
win

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

لطیفوں کی دنیا