دنیا کے مختلف ممالک میں سات دلچسپ شادی کی رسمیں


2

دنیا کے مختلف ممالک میں سات دلچسپ شادی کی رسمیں

شادیاں تو ہر ملک میں ہوتی ہی ہیں اور کسی بھی علاقے یا ملک میں شادی کی تقریبات میں جو رسومات ہوتی ہیں ان کے ذریعے ہمیں اس ملک کی ثقافت یا کلچر نظر آتا ہے۔ عام طور سے تو مبارک باد یا تحفے تحائف لیئے اور دیئے ہی جاتے ہیں مگرآج بھی بعض جگہ شادیوں میں عجیب و غریب اور صدیوں پرانی رسومات دیکھنے میں آتی ہیں ان میں سے بعض رسمیں اتنی عجیب اور مضحکہ خیز ہوتی ہیں کہ ان پر مشکل ہی سے یقین آتا ہے۔ آج کے اس ٹاپک میں ہم آپکو ایسی ہی چند شادیوں کے بارے میں بتائیں گے جن میں اسی طرح سے یقین نہ آنے والی رسومات ہوتی ہیں۔

دولہا کے پیروں کو مارنا
یہ رسم
south Korean
شادیوں میں ہوتی ہے اس رسم میں دولہے کے دونوں پاؤں کو رسی یا بیلٹ سے باندھ دیا جاتاہے ہیں پھراسکے پاؤں کو اوپر اٹھاتے ہیں پھر اسکے پاؤں کے تلوؤں پر اس کے دوست لکڑی یا چھڑی سے ضرب لگاتے ہیں۔ بظاہر یہ رسم تکلیف دہ ہے مگر یہ رسم دولہا کی مرضی سے ہی کی جاتی ہے ان لوگوں کا ماننا ہے کہ شادی کے بعد اس سے دولہا ہر طرح سے اور زیادہ مضبوط ہوجاتا ہے یہ رسم صرف رسم نہیں دراصل تفریحی روایت ہے جس کے ذریعے سے دولہا کے علم اور طاقت کا امتحان لیا جاتا ہے جس میں کبھی کبھی دولہے سے سوالات بھی پوچھے جاتے ہیں۔ یہ مزاح کوریا کی شادیوں کا جز ہے۔

ٹوجیا لوگوں کے رونے کی رسم

عام طور سے شادیوں میں ہنسی مذاق اور میوزک ہوتا ہے مگر چائنہ میں رہنے والے ٹوجیا لوگ شادی کی تقریب سے ایک ماہ پہلے شادی کا آغاز رونے دھونے سے کرتے ہیں۔ ان کی رسم کے مطابق شادی سے ٹھیک ایک ماہ پہلے دلہن روزآنہ ایک گھنٹے تک روتی ہے اسکے دس دن کے بعد دلہن کی ماں بھی رسم کے مطابق دلہن کے ساتھ رونا دھونا شروع کردیتی ہے۔ پھر اسکے دس دن کے بعد اسکی دادی بھی رونے دھونے میں اسکے ساتھ شامل ہوجاتی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ کرکے گھر کی ساری عورتیں رونے دھونے میں حصہ لیتی ہیں۔ ان کی اس رسم میں انکا رونا کسی دکھ کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ یہ خوشی کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ انکی فیملی کی ساری عورتیں مختلف طریقے سے ایک ساتھ گاتی ہیں جو گانے کی طرح لگتا ہے۔

دلہن پر تھوکنا

یہ رسم کینیا کے مقیم مسائی قوم کرتی ہے یہ عجیب اور فرسودہ رسم میں دلہن کو گنجا کردیا جاتا ہے پھر اسکے سر پہ بھیڑ کی چربی اور تیل لگایا جاتا ہے اس عجیب و غریب رسم میں دلہن کا باپ دلہن کو دعا دینے کے لئے اسکے سر پر تھوکتا ہے ویسے تو عموما” تھوکنے سےناخوشگواری کا سا احساس ہوتا ہے مگر مسائی لوگوں کے نزدیک یہ خوش نصیبی اور نیک بختی سمجھا جاتا ہے اسکے بعد اس رسم میں دلہن اپنے شوہر کے ساتھ چلی جاتی ہے مگر مڑ کر کسی کو نہیں دیکھتی تاکہ ان کے نظریئے کے مطابق پتھر کی نہ بن جائے۔ پھر جب اپنے شوہر کے گھر جاتی ہے تو رسم کے مطابق اسکا شوہر دو دن کے لئے باہر چلا جاتا ہے۔ پھر دوبارہ دلہن کی ساس دلہن کے سر کو شیو کرتی ہے۔ ہوں ان کی ایک نئی زندگی شروع ہوجاتی ہے۔

یعنی دلہنوں کو اغوا کرنے کے طریقے Kyz ala kachuu

اسکا مطلب ہے کسی نوجوان لڑکی کو بھگا کرلے جانا۔ یہ ایک بہت ہی عجیب اور بےہودہ رسم ہے جو چار سو سال پہلے کافی ملکوں کی رسموں کا حصہ تھی مگر اب یہ صرف رومانی کلچر کا ہی حصہ ہے اس رسم کو دلہن کا اغوا کہا جاتا ہے اس رسم کا مطلب ہے دلہن کو بھگا کر اس سے شادی کرنا۔ اس رسم میں وہ آدمی جو کسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے وہ اس لڑکی کو زور زبردستی اغوا کرتا ہے یہ اس اغوا میں اپنے رشتے داروں اور دوستوں کی مدد بھی حاصل کرتا ہے پھر اسکو لے جا کر ایک کمرے میں بند کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ایک خاص قسم کا اسکارف اپنے گلے کے گرد باندھ لے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ شادی کے لئے راضی ہے۔

دلہن اور دولہے کو کالا کرنے کی رسم

یہ رسم
Scotland
میں کی جاتی ہیں جس میں شادی سے پہلے دلہن اور دولہا دونوں کو کسی سیاہی یا سیاہی مائل چیز سے کالا کیا جاتا ہے یہ کام اس جوڑے کے نزدیکی دوست کرتے ہیں اس رسم کا مقصد دلہن اور دولہا دونوں پر سے مصیبت و پریشانیوں کو ٹالنا ہوتا ہے یہ رسم آج بھی اسکاٹ لینڈ کی شادیوں کا حصہ ہے

جانوروں سے شادی

یہ رسم انڈیا کے کچھ علاقوں میں کی جاتی ہے جہاں کے لوگوں کا خیال ہے کہ کچھ لوگوں پر جنات قبضہ کرلیتے ہیں ان کے عقیدے کے مطابق وہ لڑکیاں جن کا پیدائش کے وقت دودھ کا دانت ہو یا جن کی شکل و صورت معمولی سی ہو ایسی لڑکی کی کسی جانور مثلا” بکرے یا کتے سے شادی کرکے جان چھڑائی جاتی ہے۔ یہ لوگ اس شادی کا باقاعدہ اہتمام کرتے ہیں جس میں ناچ گانا بھی ہوتا ہے یہ ایک فرضی شادی ہوتی ہے جس کے ذریعے سے یہ لوگ اپنے عقیدے کے مطابق بدروحوں کو دور کرتے ہیں اس شادی کے بعد جب لڑکی کی جان ان بدروحوں سے چھوٹ جاتی ہے تو وہ کسی بھی آدمی سے شادی کر سکتی ہے۔

دلہن کو چوکھٹ پر سے اٹھانا

یہ بھی ایک پرانی رسم ہے جو صدیوں سے چل رہی ہے یہ رسم ابھی بھی یورپ میں کہیں کہیں موجود ہے۔ اس رسم کے پیچھے یہ عقیدہ تھا کہ دلہن کے نئے نویلے ہونے کے باعث گھر کی بدروحیں اس پر قبضہ کر سکتی ہیں اس لئے دولہا خود دلہن کو کندھوں پر اٹھا کر گھر کے اندر لے کر جاتا تھا کچھ پرانے یورپ کے لوگوں کاا یہ بھی ماننا تھا کہ دلہن کو اپنے باپ کا گھر چھوڑ کر افسوس نہ ہو اسلئے اچھی قسمت کے لئے یہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔


Like it? Share with your friends!

2

What's Your Reaction?

hate hate
3
hate
confused confused
5
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
1
geeky
love love
0
love
lol lol
1
lol
omg omg
0
omg
win win
0
win

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

لطیفوں کی دنیا