ماں کی خدمت کا اثر


1

ماں کی خدمت کا اثر

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک پھل فروش نے اپنے ٹھیلے پہ بورڈ لگا رکھا تھا لکھا تھا کہ
“میری ماں بیمار ہے فالج زدہ بھی ہے میرے گھر میں کوئی نہیں جو اسکی خدمت کرے مجھے ہی اسکو تھوڑی تھوڑی دیر بعد کھانا کھلانا اور حاجت کروانا پڑتی ہے اکیلے میں اسکا جی بھی گھبراتا ہے اس لئے مجھے ہی اسکے پاس رکنا پڑتا ہے آپکو اگر جلدی ہے تو ہر پھل کے ساتھ ریٹ لکھے ہوئے ہیں پاس ہی تھیلیاں بھی رکھی ہیں ہیں اپنی مرضی کے پھل تھیلے میں ڈالیں تولیں اور پیسے کونے پہ ہی ایک گتا رکھا ہے اس کے نیچے رکھ دیجیئے اگر پیسے نہ ہوں یا کم ہوں تو میری طرف سے تحفتا” لے لینا۔ واللہُ خیر الرازقین۔ جزاک اللہ۔”

لوگ آتے تھے دیکھتے تھے پڑھتے تھے اپنی مرضی سے پھل چن کر تھیلوں میں ڈالتے تھے تول کر پیسے رکھ جاتے تھے۔
ایک مرتبہ ایک شخص کا کہنا ہے کہ کھانے کے بعد میں اور بھائی ساتھ تھے تو دیکھا اس ٹھیلے کو ایک ادھیڑ عمر شخص دھکا لگا کر لے جانے والا تھا کہ اس نے ہمیں دیکھا پھر مسکرا کر کہا کہ پھل تو سب ختم ہوگئے صاحب۔ ہم نےاسے چائے کی دعوت دی اس نے قبول کرلی نام پوچھا تو بتایا خادم حسین پھراس نے اپنی زندگی کے احوال بتائے کہنے لگا کہ اماں پچھلے تین سالوں سے بیمار ہیں عمراور بیماری نے اسے کچھ نفسیاتی بھی بنا دیا ہےاب تو فالج بھی ہوگیا ہے۔ میرا اماں کے سوا کوئی نہیں ہے بیوی کا انتقال ہوچکا اورکوئی بال بچہ بھی نہیں ہے بس اماں ہیں اور میں انکو دیکھنے بھالنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ ایک دن میری اماں سے بات ہوئی تو میں نے کہا کہ آپ کی خدمت کا تو بڑا دل چاہتا ہے مگر جیب خالی ہے آپ مجھے یہاں سے ہلنے بھی نہیں دیتیں۔ اماں نے کہا کہ تم جاتے ہو تو بیٹا میرا دل گھبراتا ہے اس پہ مَیں نے کہا کہ تم ہی بتاؤ مَیں کیا کروں؟ کیا ہمارے لئے اب غیب سے کھانا آئے گا نہ تو آپ موسیٰ علیہ السلام کی ماں ہیں نہ ہی میں بنی اسرائیل سے ہوں۔ یہ سن کر اماں نےے دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا لئے اور دیر تک اللہ سے محو ِ گفتگو رہیں پھر دعا ختم کر کے مجھے کہنے لگیں کہ تم ریہڑی پھلوں سے بھر کر وہیں چھوڑ آیا کرو تم کو ان شاء اللہ تمہارا رزق یہیں اسی کمرے میں بیٹھ کر ملے گا۔ میں نے کہا کہ اماں کسی باتیں کرتی ہیں ریہڑی چھوڑ دونگا تو کوئی چور اچکا سارا سامان لے جائے گا آجکل بغیر مالک کے کون خیال کرتا ہے۔ اماں لگیں کہ تم فجر میں ریہڑی پھلوں سے بھر دیا کرو اور شام میں خالی واپس لے آیا کرو زیادہ بک بک نہ کیا کرو اگرتمہارا سامان گیا تو یہ خالدہ ثریا تمہیں اللہ سے سب کچھ واپس دلوائے گی۔

ڈھائی سال ہوگئے صاحب صبح ٹھیلا لگا دیتا ہوں شام میں واپس آ کر خالی اُٹھا لیتا ہوں آج تک کبھی حساب میں بڑی کمی نہیں آئی اکثر تو زیادہ ہی دے جاتے ہیں اکثر نفع حساب کتاب سے تین سو چار سو زیادہ ہی نکلتا ہے اکثرتحفے بھی ملتے ہیں کبھی کوئی پھول دی دیتا ہے کبھی کوئی کھانے کے لئے کچھ دے جاتا ہے پرسوں کسی گاہک نے بریانی رکھی تھی نوٹ لکھا تھا کہ اماں کے لئے۔ ایک دفعہ ایک ڈاکٹر کا گزر ہوا تو اپنا کارڈ چھوڑ دیا نوٹ لکھا تھا کہ اماں کی طبیعت زیادہ خراب ہو تو فون کردینا میں خود آ کر لے جاؤں گاا۔ کبھی کوئی اماں کے لئے جوڑا رکھ جاتا ہے ایک حاجی صاحب نے عجوہ کھجور تحفہ دیا۔ روزآنہ ہی کچھ نہ کچھ نیا اور اچھا ہوا ہوتا ہے نہ اماں ہلنے دیتی ہیں نہ اللہ روزی رکنے دیتا ہے۔ اماں تو کہتی ہیں کہ تمہارے پھل بیچنے اللہ خود نیچے اتر آتا ہے اور سب بیچ دیتا

ہے وہ سوہنا رب ایک تو خود رزاق ہے پھر ریٹیلر بھی ہے۔ اللہ اکبر
آخر میں بس اتنا ہی کہ جب بھی آپ ماں باپ کو کام کرتے دیکھیں تو فورا” ان کے ہاتھ سے لے لیں انہیں آرام کرنے دیں انکی خدمت کریں پھر دیکھئیے گا کہ اللہ کیسے آپکی مدد کرتا ہے۔


Like it? Share with your friends!

1

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
1
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
1
geeky
love love
13
love
lol lol
0
lol
omg omg
0
omg
win win
4
win

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

لطیفوں کی دنیا