ماں کی قربانیاں


0

ماں کی قربانیاں

ایک مرتبہ ایک تقریب ِ نکاح میں دولہا سے نکاح کی رضامندی لی جا رہی تھی تو نکاح خوان نے دولہا سے اس کا نام پوچھ کر لکھا پھر اسکے والد کا نام پوچھا تو دولہا یہ سوال سن کر گم سم سا ہوگیا کچھ دیرکے بعد کہنے لگا کہ ہم دوہی افراد گھر میں رہتے ہیں میں اور میری ماں میں نے کبھی بھی اپنی والدہ سے اپنے والد کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا اس لئے مجھے اپنے والد کا نام بھی نہیں معلوم۔ آپ ذرا ٹھہریئے میں اپنے والد کے بارے میں اپنی والدہ سے معلومات لے کر آتا ہوں۔

یہ کہہ کر دولہا اٹھا اور اپنی والدہ سے ملنے گھرچلا گیا۔ گھر پہنچ کر اس نے اپنی ماں سے اپنے والد کے بارے میں سوال کیا اسکی ماں یہ سوال سن کر گھبرا گئی اور گم سم ہو کر خاموش رہی۔ ماں کو گم سم اور خاموش پا کربیٹے نے یہ سوال کئی بار دہرایا مگر ماں کی طرف سے اسے کوئی جواب نہ ملا۔ جب اسے اپنی ماں کی طرف سےکوئی جواب نہ ملا تو اسے غصہ آگیا اور اس غصہ میں اس نے نہ جانے کیا کیا اپنی ماں کو کہہ سنایا۔ گھر میں موجود دوسری عورتیں بھی یہ سب دیکھ کر حیران تھیں اور اس سوچ میں تھیں آج تک ہم میں سے کسی کے ذہن میں کبھی یہ سوال کیوں نہ آیا حالانکہ یہ دونوں ماں بیٹا ہمیشہ اسی مکان میں ہی رہے ہیں۔ یہ لڑکا کبھی اسکول بھی شاید اسی لئےنہیں گیا کہ اسے اسکے والد کا نام نہیں معلوم تھا۔ آخرکار بیٹے نے ماں سے کہا کہ اگر آپ مجھے میرے باپ کا کام نہیں بتا سکتیں تو اس ذلت بھری زندگی سے بہتر ہے کہ میں خود کشی کرلوں۔

ماں نے جیسے ہی یہ الفاظ سنے تو کانپ گئی اور بیٹے کو گلے لگا کر بولی کہ پہلے میری بات سن کو پھرجو دل چاہے کرلینا۔ چند دووسری عورتوں نے بھی اسے سمجھایا کہ پہلے ماں کی بات سن لو۔ اب سب خاموش تھے اور منتظر تھے کہ ماں کچھ کہے۔ کچھ توقف کے بعد ماں نے کہنا شروع کیا؛

پاکستان جب بن گیا تو میں اور میرے خاندان کے تمام مرد و زن میرے والد چچا بھائی گھرکی عورتیں سب سفر پر نکل گئے۔ جب ہم راستے میں تھے تو ایک جگہ پر ہم پر ہندو حملہ آور ہوگئے ہمارے گھر کے سارے مرد خوب لڑے مگر ان کے پاس ہتھیار اور بندوقیں تھیں لہٰذا ہماری حفاظت نہ کرسکے بلکہ سب شہید ہوگئے۔ اس حملہ کا وقت کیونکہ رات کا تھا تو میرے والد صاحب نے اندھیرے کا فائدہ آٹھایا اور ہم عورتوں کو بچانے اور بھگانے کی کوشش کرنے لگے مگر میرے سوا کسی کو بھی بچانہ سکے۔ میرے پیچھے میرے جانے کے بعد میرے خاندان کے باقی عورتوں مردوں کا کیا ہوا مجھے کچھ نہیں معلوم کوئی زندہ بھی ہے یا نہیں میں نہیں جانتی۔ وہاں سے نکلنے کے بعد میں بہت خوف زدہ تھی دن بھر تو میں چھپ کر گزار دیتی تھی مگر رات کو میں اللہ کا نام لے کر اس راستے پر چل پڑتی تھی جس کا روانگی سے قبل میرے گھرکے مرد تذکرہ کرتے تھے۔ میں ہر رات اسی طرح سفر کرتی تھی ایک رات میں نے دور سےکسی بچے کے رونے کی آواز سنی۔ آواز کی سمت گئی تو دیکھا کہ بہت سی لاشیں بکھری پڑی تھیں ان لاشوں کے درمیان ایک نوزائدہ بچہ پڑا رو رہا تھا میں نے اس بچے کو اٹھا کے سینے سے لگایا اور یونہی اسے ساتھ لئے سینے سے لگائے سفر کرتے کرتے آخرکار پاکستان پہنچ گئی۔

یہاں پہنچ کر مہاجر کیمپوں میں بھی میں نے بہت ڈھونڈا مگر مجھے اپنا کوئی رشتے دار نہ ملا اور اس طرح صرف میں اور وہ بچہ صرف دو ہی افراد میری کل کائنات تھی۔ میں کم عمر اور غیر شادی شدہ تھی مگر اپنی ساری زندگی میں نے اس بچے کے لئے وقف کردی جسے میں نے سہارا دیا تھا اور آج وہ بچہ میرے سامنے موجود ہے۔ اب مجھے بتاؤ رات کے اندھیرے میں لاشوں کے بیچ میں وہ بچہ جو بلک بلک کے رو رہا تھا مجھے اس وقت کون اس کا نام اور اسکے باپ کا نام بتاتا؟

ماں کی بات سن کر وہاں موجود ہر آنکھ پر نم تھی اور وہ لڑکا جو پہلے اپنی ماں سے ناراض ہورہا تھا انکو باتیں سنا رہا تھا وہ اپنی ماں کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ پھر شرمندگی سےاسکے احسانات کے بوجھ تلے اسکے قدموں میں جا کر گر گیا۔
جن صاحب نے یہ قصہ سنایا تھا انکا کہنا تھا کہ وہ عینی شاہد ہیں اور آج جب وہ نوجوانوں کو یوم آزادی پر دیکھتے ہیں تو انکو وہ عورت اور اس جیسی کئی جانیں یاد آجاتی ہیں جنہوں نے اپنی محنت کا پھل دیکھے بغیر اپنی جان گنوا دی۔
دعا ہے کہ رب العالمین ہمیں اپنی قیمتی جانوں کو گنوانے والوں اور اپنے صبر کا پھل پاکستان کی قدر کرنے والا بنائے آمین ثمہ آمین۔


Like it? Share with your friends!

0

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
1
love
lol lol
0
lol
omg omg
0
omg
win win
0
win

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

لطیفوں کی دنیا