پہلے مرغی آئی یا انڈہ؟


-1

پہلے مرغی آئی یا انڈہ؟

ناظرین جس طرح ہمارے ذہنوں میں بہت سے سوال آتے ہیں ایسے ہی کئی بار یہ سوال بھی سوچ کا حصہ بنتا ہے آپ کی بھی بنا ہوگا کہ دنیا میں پہلے مرغی آئی یا انڈہ؟ یہ کوئی مزاحیہ سوال نہیں بہت سے ایسے لوگ جو اللہ کے وجود سے انکاری ہیں یعنی ملحدین کا یہ سوال ہوسکتا ہے اور بچے تو معصوم ذہن کے ہوتے ہیں ان کے ذہنوں میں بھی یہ سوال آ سکتا ہے وہ بھی آپ سے پوچھ سکتے ہیں ۔ ایسے میں ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ اس کا جواب کیا دیں ہماری سوچ اسکے جواب کے بارے میں ٹیکنیکل نہیں ہوتی اسی لئے آج کے اس ٹاپک میں ہم اس بارے میں بات کریں گے آپ کو اسکا صحیح جواب بتائیں گے کہ اگر کوئی پوچھے تو کیا کہنا ہے اور یہ بھی بتائیں گے کہ اسکے بارے میں سائنس کا کیا جواب ہے اور اسلام اس بارے میں کیا بتاتا ہے۔

سب سے پہلے ہم آپ سے سائنس کے بارے میں بات کریں گے جس کے لئے ہمیں بائیولوجی کو سمجھنا پڑے گا۔ مختصرا” یہ کہ مرغی کے جسم میں
Ovaries
ہوتی ہیں جن میں اللہ نے انڈے کو پیدا کرنے کی صلاحیت دی ہے وہ انڈہ جو ہم کھاتے ہیں یا جس سے چوزہ نکلتا ہے وہ اووریز کی مدد سے وجود میں آتا ہے۔ اسی لئے بائیولوجی بتاتی ہے کہ اگر اووریز نہ ہوں تو انڈہ تخلیق نہیں پاسکتا۔ یہی ہمیں سائنس بتاتی ہے
Modern theories of reproduction modern theory of biology
ہمیں یہی بتاتی ہیں۔ اصل میں انڈہ بننے کے لئے ایک پروٹین کی اشد ضرورت ہوتی ہے جسے
O V 17
کہا جاتا ہے اور یہ پروٹین صرف مرغی کے جسم کے اندر ہی پایا جاتا ہے جو مرغی کی اووریز کے اندر ہوتا ہے اسکی غیر موجود گی کی وجہ سے انڈے کا چھلکا نہیں بن سکتا اور اگر چھلکا نہیں بنے گا تو پورا انڈہ ہی نہیں بنے گا اور اس طرح سے چوزا بھی نہیں بنے گا اور اگر چوزا نہیں بنےگا تو مرغی کی نسل بھی آگے نہیں بڑھے گی۔ اس لئے یہ ثابت ہوا کہ پہلے مرغی ہوگی تب ہی انڈہ وجود میں آئے گا۔

آب آتے ہیں دین کی طرف کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے اور اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کیا تعلیمات دی ہیں۔ اس سلسلے میں اللہ نے قرآن میں ہمیں بتایا کہ ہم نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا پیدا فرمایا۔یعنی اللہ نے جب انسان کو بنایا تو حضرت آدم و حوا علیہم السلام کو پیدا فرمایا پھران دونوں کے ذریعے نسل بڑھی۔ بالکل اسی طرح اللہ نے ہر مخلوق کا جوڑا بنایا چرند پرند سب جوڑوں کی شکلوں میں پیدا فرمائے اور انہی نر اور مادہ کے ذریعے سے ان کی نسل بڑھی۔

ایسے میں جب سائنس سے جوابات مانگے جائیں تو اسکے پاس کچھ کہنے کے لئے نہیں ہوتا جب اس سے پہلی مرغی کے وجود کے بارے میں پوچھا جاتا ہے کہ وہ کہاں سے آئی۔ ایسے میں سائنس پھنس جاتی ہے پھر وہ
THEORY OF EVOLUTION
جیسی مختلف تھیوریز دینے لگتی ہے جو زیادہ تر ملحدین کی طرف سے ہوتی ہیں جس میں کہا جاتا ہے کہ پہلے چھوٹے جاندار تھےان میں ہی تبدیلی آئی پھر ان سے بڑے اور پھر ان سے بھی بڑے جاندار وجود میں آئے۔ مگر آج کی دنیا میں سائنس اور بائیولوجی یہ مانتی ہیں کہ ڈی این اے میں کسی طرح کی تبدیلی یا
Evolution
نہیں ہوسکتا، ایک بیکٹیریا میں
Evolute
ہوکر مرغی کا وجود نہیں بنا سکتا۔ آج کو دور میں
DNA testing
بھئ اسی لئے ہوتی ہے کہ انسان کا ڈی این اے کسی دوسرے جانور سے میچ نہیں کرسکتا۔ یہاں تک کہ کسی دوسرے انسان سے بھی میچ نہیں کر سکتا اور نہ ہی ڈی این اے میں کوئی بھی تبدیلی واقع ہوسکتی ہے۔ اسی لئے اس
Theory of evolution
کو modern theory of biology
نے ریجیکٹ کردیا ہے اور اسی طرح ملحدین جو کہ ہمارے آس پاس موجود ہوتے ہیں اور صرف عقل اور منطق کی بنیاد پر بات کرتے ہیں وہ دراصل عقل نہیں رکھتے ان کے ساتھ دلیل کے ساتھ بات کرنی چاہیئے جس میں وہ جلد ہی خاموشی اختیار کرلیں گے۔ انکو کہنا چاہیئے کہ وہ سائنس جسے تم مانتے ہو جو آج مختلف لاء بتا رہی ہے اسے چودہ سو سال پہلے قرآن نے بتادیا تھا۔ ایسے میں اگر کچھ بھی
Contradiction
پایا جاتا ہے تو مسئلہ سائنس میں ہے قرآن میں نہیں ہے۔ یہی ملحدین تھوڑا ٹائم پہلے نیوٹن کے
Laws
کو مانتے تھے اور پوری فزکس نیوٹن کے ان لاز کی بنیاد پر چلتی تھی لیکن
Modern theory of relativity نے
اور جب
Einstein
کی تھیوریز آئیں تو انہوں نے نیوٹن کی تھیوریز کو غلط قرار دے دیا۔ آئنسٹائن کی تھیوریز نیوٹن کی تھیوریز کے بارے میں کہتی ہیں کہ یہ تھیوریز کسی خاص صورتحال میں مانی جا سکتی ہیں۔ بہت مخصوص صورت میں
Applicable
ہیں کیوں کہ جب نئی چیزیں اس گریویٹی کے باہر نکلتی ہیں تو بہت زیادہ رفتار میں ہوتی ہیں جو نیوٹن کے لاء کو فیل کر دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر یہ لاز بھی قرآن کی کسی آیت سے متضاد حیثیت رکھتے ہیں تو غلطی ان لاز میں ہوتی ہے نہ کہ قرآن کریم میں۔ قرآن پاک کی ایک آیت ایک لفظ کا انکار کرنا دراصل پورے قرآن کا انکار کرنا ہے اور اس بات پر پوری دنیا کے علماء کا اجتہاد بھی ہے۔ اس لئے ثاابت ہوا کہ جو شخص قرآن کی ایک بات کا بھی انکار کرےگا وہ پورے قرآن کا انکار کرے گا اور ایسا شخص مسلمان نہیں بلکہ کافر ہے۔ ایسے لوگ اپنے عقائد کے لئے یہ بات ضرور کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں مگر انہیں قرآن کی کوئی آیت سمجھ نہیں آرہی اسلئے وہ سائنس یا علماء سے رابطہ کر رہے ہیں۔ لیکن جو برملا انکار کرے وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔

اسلئے ملحدین کو زیر کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ ان سے کہا جائے کہ آپ سائنس کا کوئی ایسا قانون لے آئیں جس کو اب تک غلط قرار نہ دیا جا سکا ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور مبارک میں اگر کوئی سائنسدان یا عقل کی بنیاد پر بات کرنے والوں کوکہا جاتا کہ زمین گول ہے تو وہ نہیں مانتے۔ جبکہ قرآن کریم میں اللہ نے ہمیں بتادیا کہ زمین اور سورج اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں ۔ سائنس نے آج اس بات کو مانا ہے کہ زمین انڈے کی شکل کی ہے اور یہ گھوم رہی ہے۔ پہلے زمانے کے بڑے بڑے عاقل اس بات کو مانتے تھے کہ زمین ہل نہیں سکتی اور اگر ہلتی ہے تو ہمیں اسکا احساس کیوں نہیں ہوتا؟ ایسا وہ اسلئے مانتے تھے کیونکہ عقل کا معیار اس وقت بہت پست تھا اسلئے آج کے وقت جیسی سوچ نہیں تھی اسی طرح کچھ سالوں کے بعد آج کی سوچ کو پست مانا جائے گا کیونکہ کچھ اور تحقیقات ہوجائیں گی مگر قرآن کریم یا اسلام کو ہم عقل کے معیار پر نہیں رکھ سکتے بلکہ انسانی عقل یا سائنس ایسی چیز ہے جسے قرآن کریم کے معیار پر تولا جا سکتا ہے اور ہر مسلمان کے ایمان کا یہ تقاضہ ہے کہ وہ ہر ایسی چیز کا انکار کرے جو قرآن سے متصادم ہو کیونکہ قرآن شک کی کتاب نہیں ہے بلکہ سائنس یا انسانی عقل اگر تضاد رکھے تو ضرور مشکوک ہوسکتی ہے۔


Like it? Share with your friends!

-1

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
1
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
0
geeky
love love
4
love
lol lol
2
lol
omg omg
4
omg
win win
4
win

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

لطیفوں کی دنیا