کیا سائنس مرا ہوا انسان زندہ کر سکتی ہے؟


-2

کیا سائنس مرا ہوا انسان زندہ کر سکتی ہے؟

آج ہم آپ کوایک ایسے ٹاپک سے روشناس کرائیں گے جو ہمیں یقین ہے کہ اس سے پہلے آپ نے نہیں سنا ہوگا۔ جی ناظرین آج ہم آپ کے لئے ایک سائنس کا ٹاپک لے کر آئے ہیں اس میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ کس طرح امریکی سائنسدان اپنی کوششوں میں مصروف ہیں کہ کسی طرح وہ مردہ انسان کو پھرسے زندہ کر سکیں۔ آج ہم آپکو اس سلسلے میں ان کے طریقے انکے کام اور انکی امیدوں کے بارے میں بتائیں گے۔ آج ہم آپکو بتائیں گے کہ کرائیو نکس
Cryonics
اور
cryopreservation کرائیو پریزرویشن
کیا ہوتی ہے۔ اور آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ کس طرح سے سائنسدانوں کا خیال یا ان کی کوشش ہے کہ وہ مرے ہوئے انسان کو زندہ کر سکتے ہیں۔
ناظرین بحیثیت مسلمان تو ہمارا یہ ماننا ہے کہ زندگی اور موت صرف اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور جس طرح قرآن میں ہے کُلُّ نَفسِۨ ذِائِقَۃُ المَوت یعنی ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور ہمارا یہ بھی ماننا ہے کہ تمام انسانوں کو موت کے بعد پھر سے انکی قبروں میں سے زندہ آٹھایا جائے گا اور یہ سب کچھ اللہ کی مرضی سے ہوگا۔ مگر سائنسدان یہ سب کچھ اللہ کی مرضی کے خلاف اس سے بہت پہلے کردینا چاہتے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ خود مرے ہوئے انسانوں کو زندہ کردیں جس مقصد کے لئے انہوں نے جدید قسم کی مشینیں اور آلات بھی تیار کرلئیے ہیں اس ٹیکنیک کو یہ ہی کرائیو نکس کہا جاتا ہے جس کے لئے اب تک دو سو پچاس سے زائد لوگوں نے خود کوپھر سے زندہ کرنے کے لئے پریزرو یعنی محفوظ بھی کروا دیا ہے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس ٹیکنیک کو 2030 کے آس پاس وہ منظرعام پرلا کران لوگوں کو پھر سے زندہ کردیں گے۔

اب ہم آپ کو تفصیلی طور سے کرائیونکس اور کرائیو پریزرویشن کے بارے میں بتائیں گے یہ بھی کہ کس طرح اسکو استعمال کیا جاتا ہے اور کیسے یہ سائنسدان اس کوشش میں ہیں کہ قدرت کے کاموں میں دخل اندازی کریں۔

کرائیونکس کا مطلب کسی بھی چیزکو انتہائی ٹھنڈا کرنے کے ہیں یہ یونانی زبان کا ایک لفظ ہے۔ اس ٹیکنیک میں انسان کے جسم کو ایک ایلومینیم بکس یا جسے سائنسی زبان میں ایلومینیم کیپسول کہا جاتا ہے اس میں لیکوئد نائٹروجن بھر کے انسانی جسم کو مائنس 195 ڈگری سینٹی گریڈ پر ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی کم درجہ حرارت ہے یہاں تک کہ گلیشیئریعنی برف کے تودے میں بھی اس سے زیادہ درجہ حرارت پایا جاتا ہے یعنی عام ماحول میں قدرتی طور پر اتنا کم درجہ حرارت کہیں نہیں پایا جاتا۔

یہ سارا طریقہ کار انسان کے مرنے کے چند منٹ کے اندرہی کیا جاتا ہے اور یہ ایسے کیا جاتا ہے کہ انسان اپنے مرنے سے کچھ منٹ پہلے ایک تحریر وصیت کی شکل میں لکھ دیتا ہے کہ اس کے جسم کو کرائیوپریزرو کردیا جائے تاکہ کبھی نا کبھی اسے دوبارہ زندہ ہونے کا موقع مل سکے پھر جیسے ہی اس انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے تو فورا” اسے کرائیوپریزرویشن سینٹر لے جایا جاتا ہے جو کہ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں موجود ہیں۔ وہاں لے جا کر فوری طور سے اس مردے کے جسم کو ایک مشین میں داخل کیا جاتا ہے جو اس کے جسم کا تمام خون نکال کر اس کے جسم میں اسکی نسوں میں کرائیوپریزرویشن فلوئڈ بھر دیتی ہے یہ ایک خاص لیکوئڈ ہے جسے نائیٹروجن سے مل کر بنایا جاتا ہے جو انسانی جسم میں خون کا متبادل ہوتا ہے جو جسم کے سیلز کو زندہ رکھتا ہے اور کم درجہ حرارت پرانسانی جسم کو فریز کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے یہ لیکوئڈ جس وقت مردہ انسان کے جسم کے اندر پہنچتا ہے ویسے ہی اس کے جسم کو ایلومینیم کیپسول میں پریزرو کردیا جاتا ہے۔ پھر اس کیپسول میں لیکوئڈ نائیٹروجن بھر دی جاتی ہے اس کے بعد اس کیپسول کو مائنس 130 سے لے کر مائنس 200 سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں کسی پر بھی محفوظ کردیا جاتا ہے۔ ایک خاص درجہ حرارت پر پہنچ کر اس مردہ انسان کا جسم اس میں برین سیلز اس کے خلیات مولیکیولز اس کے اندر موجود طویل مدتی میموری اور ڈیٹا محفوظ ہوجاتا ہے۔ گو کہ مولیکیولر بائیو لوجی اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا کو کبھی بھی بحال کیا جا سکتا ہے مگر اب تک ایسے کسی دعوے میں مالیکیولر بائیولاجی کامیاب نہیں ہوسکی ہے نہ ہی اب تک یہ کسی بھی کرائیوپریزروڈ انسان کو دوبارہ سے زندہ کر سکی یا نارمل لائف دے سکی ہے۔ البتہ مستقبل میں سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ ایسی کوئی ٹیکنیک متعارف کراوئی جائے گی جس کے ذریعے کرائیو پریزروڈ انسانوں کو زندہ کیا جا سکے گا۔

اس ضمن میں سب سے پہلا انسان جس نے اپنے جسم کو کرائیو پریزرو کرنے کی وصیت کی تھی اسکا نام بریڈ فورڈ تھا۔ اسکو کرائیوپریزرو 1967 میں کیا گیا تھا۔ اسکے علاوہ قریب دو سو پچاس لوگوں کے مردہ اجسام کو کرائیو پریزرو کیا جاچکا ہے اور مزید پندرہ سو ایسے افراد ہیں جو مرنے کے بعد اپنے جسم کو کرائیو پریزرو کروانا چاہتے ہیں وہ یہ وصیت بھی کرچکے ہیں ایسے میں جیسے ہی ان لوگوں کی موت واقع ہوگی یا اگر انہیں کوئی مہلک بیماری ہوگی جوانکی موت کا سبب ہوگی جیسا کہ کینسر یا ہارٹ فیلیئر تو ان کو فورا” کرائیو پریزرو کردیا جائے گا۔

کرائیونکس اور کرائیو پریزرویشن کی ٹیکنیکس کے بارے میں تو ہم نے آپ کو بتا دیااور یہ بھی آپ نے جان لیا کہ کس طرح سائنسدان مردہ انسانوں کو زندہ کرنے کی کوششوں میں ہیں مگریہاں چند باتیں کہنا ضروری ہیں وہ یہ کہ یہ سوچ اتنی غلط نہیں کیونکہ دنیا کے رازوں کو سوچنے کے لئے اللہ نے انسان کو شعور دیا ہے اسلئے کوشش کرتے کرتے جب انسان تھک جائے گا اور ہار جائے گا تو وہ خالق کائنات کی تخلیقات کی حکمت اور اسکے رازوں کو سمجھ لے گا اور اسکا گرویدہ ہو جائیگا اور اس کے فیصلوں کو مان لے گا۔ اسی لئے آپ کے علم میں ہوگا کہ کئی سائنسدان اللہ کی حکمت اور حقانیت کو قبول کرتے ہوئے اسلام کے دائرے میں شامل ہو رہے ہیں۔

ابھی تک ترقی یافتہ ممالک ، جن میں امریکا برطانیہ روس اور چین شامل ہیں ، ہی میں کرائیونکس کی تخلیق ہوئی ہے مگر ترقی پذیر ممالک میں اس تکنیک کا شعور ابھی لوگوں میں نہیں ہے اور فی الحال یہ ٹیکنیک سائنسی اعتبار سے کامیاب ہوتی نظر بھی نہیں آتی مگر جس طرح سائنسی اصطلاح میں کہا جاتا ہے کہ ہر چیز ممکن ہے اسی طرح اللہ نے انسان کو ہر چیز کے لئے پر امید بنایا ہے یہی وجہ ہے کہ آج سائنسدان پر امید ہیں ایک وقت آئے گا جب وہ مردہ انسان کو زندگی دے سکیں گے۔

کرائیونکس کے بارے میں ہم مزید معلومات دیتے چلیں کہ یہ ایک بہت مہنگی ٹیکنیک ہے جس کے لئے کافی معاوضہ درکار ہوتا ہے۔ صرف روس میں اس طریقہ کار پر عمل کرنے کے لئے نوے ہزار ڈالر کا خرچہ آتا ہے۔

یہاں جب ایسی ٹیکنیک کے بارے میں اسلامی شریعت کو دیکھتے ہیں کہ اسلام اس انسانی خلل کے بارے میں کیا کہتا ہے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ انسانی جسم کی موت کے بعد وہی حقوق ہیں جو شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتائے ہیں یعنی میت کو غسل دینا کفن پہنانا اور دفن کرنا۔ اس طرح موت کے بعد انسانی جسم کو محفوظ کرنا شریعت کی خلاف ورزی ہے۔ ایسے میں وہ مسلمان جو کرائیونکس کے ذریعے موت کے بعد اپنے جسم کو محفوظ کروانے کا ارادہ رکھے وہ قطعی غیر شرعی ارادہ کرے گا۔ ایسے شخص کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔ اس ٹیکنیک کے بارے میں اگرعلماء کرام فتویٰ دیں تو یہی ہونا چاہیئے کہ اسلامی طریقے سے ہر مسلمان کی آخری رسومات ادا کرنا فرض ہے لہٰذا یہ ٹیکنیک حرام ہے کیونکہ اس طریقہ کار سے شرعی تقاضے یعنی غسل کفن اور دفن عمل میں نہیں آ سکتا۔

دراصل یہ ٹیکنیک لوگوں کے اس گروہ کی ایجاد ہے جو اللہ کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے وہی دنیا میں دوبارہ زندگی کے خواہش مند ہیں اور اسی لئے وہ اللہ سے بالواسطہ مقابلے پر مصر ہیں۔ مگربحیثیت مسلمان ہمارا ایمان روز محشر پر ہے کہ ہمیں دوبارہ زندگی صرف اللہ کے حکم سے ہی ملے گی یہی عقیدہ ہمیں قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور پیشگو ئیوں سے ملتاہے کہ جہاں فرمان ہے کہ انسان کو اس کے گوشت پوست کو اس کی ہڈیوں کوگل سڑ جانے کے باوجود بھی اللہ تعالی اکٹھا کرے گا۔

ملحدین کے لئے قرآن میں اللہ یہ دلیل دیتا ہے کہ کیا وہ خالق جس نے انسان کو عدم سے وجود کیا یعنی جب انسان کچھ بھی نہیں تھا تب اس خالق نے انسان کو تخلیق کیا توکیا اب یہ تخلیق اس کے لئے زیادہ آسان نہیں ہے کیونکہ اب انسان کی باقیات، اس کی ہڈیاں ، بھوسہ اور ہڈیوں کا چورا موجود ہے؟ بالکل ۔ وہ ایسی تخلیق دوبارہ کر سکتا ہے وہ قادر مطلق ہے ہر چیز کا اختیار اسی کو ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اس کا ہر حکم اس کے ایک لفظ میں مقید ہے وہ کن کہتا ہے اور ہو جاتا ہے۔

ناظرین کرایئونکس جیسی سائنسی ٹیکنیکس کے بارے میں علم ضرور حاصل کریں کہ سائنس آج کل کتنی ترقی کر رہی ہے ہوسکے اور ممکن ہو تو ہمیں خود بھی تحقیق کرنی چاہئے مگر ہمارے عقیدے اور ہمارے ایمان کو اتنا مضبوط ہونا چاہئے کہ کرایئونکس جیسی کسی بھی ٹیکنیک کو رد کرسکیں کیونکہ حقیقتا” یہ ٹیکنیک بعد از مرگ انسان کو عذاب میں مبتلا کرنے کا ایک ذریعہ ہے جسے لوگ تو نہیں دیکھ سکتے مگر ہمارا عقیدے کے مطابق مردہ اس ٹھنڈ کوعذاب کی طرح محسوس کرتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے مرنے کے بعد قبرپہلی منزل ہے اوراس کا حساب برحق ہے۔


Like it? Share with your friends!

-2

What's Your Reaction?

hate hate
0
hate
confused confused
0
confused
fail fail
0
fail
fun fun
0
fun
geeky geeky
1
geeky
love love
1
love
lol lol
3
lol
omg omg
3
omg
win win
0
win

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

لطیفوں کی دنیا